سی اے ایم نے امرتسر اور ترنتارن میں دھان کی پرالی کے انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا
سی اے ایم نے امرتسر اور ترنتارن میں دھان کی پرالی کے مؤثر انتظام کی جائزہ لیا۔ حکام نے کسانوں کو اسٹیمر اور برنر جیسے آلات کے استعمال کو فروغ دینے کی ہدایات دیں۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
25 اکتوبر 2026 کو، سی ایو ایم (ملازمہ پولیس افسر) نے امرتسر اور ترنتارن اضلاع میں دھان کی پودوں کے انتظام کے موجودہ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد ہوا کے آلودگی کو کم کرنے کے لیے کسانوں کو متبادل تکنیکوں کے استعمال کی طرف متوجہ کرنا تھا۔ سی ایو ایم نے توجہ دلائی کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس بار پودے جلانے کی وارداتوں میں تیزی سے کمی آئی ہے، تاہم ابھی بھی کچھ علاقوں میں اس کا مسئلہ برقرار ہے۔
جائزے کے دوران، سی ایو ایم نے ضلعی انتظامیہ اور زرعی محکمہ کے افسران سے رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے بتایا کہ امرتسر اور ترنتارن میں کل کتنے ہیکٹر رقبے پر دھان کی کٹائی ہوئی ہے اور اس میں سے کتنا حصہ پودوں کے انتظام کے آلات کے ذریعے سنبھالا گیا ہے۔ افسران نے رپورٹ میں ذکر کیا کہ اسٹیمر، برنر اور شریڈر جیسے مشینوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جس سے دھواں اور آلودگی کی سطح میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔
سی ایو ایم نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ مقامی کسانوں کے درمیان شعور پھیلانے کے لیے خصوصی مہم چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو پودے جلانے کے نقصانات اور متبادل طریقوں کے فوائد کے بارے میں واضح طور پر سمجھایا جائے۔ اس کے علاوہ، ان کسانوں جن کے پاس آلات نہیں ہیں، انہیں کرایے پر لینے کی سہولت فراہم کرنے میں آسانی کی جائے، تاکہ انہیں اضافی مالی بوجھ اٹھانا نہ پڑے۔
اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ ان کھیتوں جن میں پودے جلانے کی امکان زیادہ ہے، ان پر نگرانی بڑھائی جائے۔ پولیس فورسز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ فیلڈ لیول پر موجود رہیں اور کسی بھی قسم کی آگ بجھانے کی واردات کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کریں۔ سی ایو ایم نے خبردار کیا کہ پودے جلانے والے کسانوں کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانہ اور قید کی سزا شامل ہے۔
افسران نے یقین دہانی کرائی کہ اس بار ہوا کے معیار کے اشاریے (AQI) میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری کوششیں کی جائیں گی۔ سی ایو ایم نے آخر میں کہا کہ پودوں کا انتظام نہ صرف ماحول کے لیے ضروری ہے، بلکہ یہ شہروں کی صفائی اور صحت سے متعلق مسائل کو دور کرنے میں بھی معاون ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں سے رابطہ برقرار رکھنے اور باقاعدہ رپورٹنگ کو یقینی بنانے کی درخواست کی ہے، تاکہ امرتسر اور ترنتارن میں ہوا کے آلودگی کے مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جا سکے۔