مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو ٹیکس منتقلی کی صورت میں 1,09,019 کروڑ روپے جاری کیے۔ آنے والے تہواروں کے موسم کو دیکھتے ہوئے اور ریاستوں کو سرمایہ کاری کے اخراجات میں تیزی لانے اور ترقی و بہبود سے متعلق اخراجات کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کے مقصد سے مرکزی حکومت نے ٹیکس منتقلی کی اگلی قسط جاری کی ہے۔
مرکزی حکومت نے آنے والے تہواروں کے موسم اور ریاستوں میں سرمایہ کاری کے اخراجات اور ترقی و بہبود کے پروگراموں کو تیز کرنے کے مقصد سے ٹیکس منتقلی کی صورت میں 1,09,019 کروڑ روپے کی ابتدائی رقم جاری کی ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
مرکزی حکومت نے آج 1 نومبر 2026 کی تاریخ کو ریاستی حکومتوں کو ٹیکس منتقلی کے طور پر 1,09,019 کروڑ روپے کی ادائیگی جاری کر دی ہے۔ یہ رقم آنے والے تہواروں کے موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ریاستوں کو سرمایہ کاری کے اخراجات میں تیزی لانے اور ترقی و بہبود سے متعلق اخراجات کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے مقصد سے طے کی گئی ہے۔
مرکزی بجٹ میں اس قسم کی منتقلی کو "مرکزی-ریاستی ٹیکس منتقلی" کے تحت رکھا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد ریاستوں کی مالیاتی صورتحال کو متوازن کرنا اور انہیں اپنے ترقیاتی منصوبوں کو وقت پر نافذ کرنے میں قابلِ کار بنانا ہے۔ 1,09,019 کروڑ روپے کی اس اگلی قسط کو ریاستوں کو وقت پر فراہم کرنا، ان کے بجٹ میں آنے والے مالیاتی فرق کو کم کرنے اور عوامی خدمات کے مسلسل بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سمجھا گیا ہے۔
اس منتقلی کے تحت، ریاستوں کو ان کے سالانہ بجٹ کے مطابق مرحلہ وار رقم مل رہی ہے۔ ریاستی حکومتوں کو یہ رقم خاص طور پر سرمایہ کاری کے اخراجات، جیسے کہ سڑکیں، پل، موسمیاتی تبدیلی کے لیے سازگار منصوبے، اور دیگر بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، یہ رقم سماجی بہبود کے منصوبوں، تعلیم، صحت اور دیہی ترقی کے پروگراموں کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
مرکزی خزانہ کے محکمہ (CFR) کے مطابق، یہ منتقلی 2026-27 کے مالیاتی سال کے لیے مقررہ کل ٹیکس منتقلی کا حصہ ہے۔ اس سال کے لیے کل ٹیکس منتقلی 5,12,000 کروڑ روپے ہے، جس میں سے 1,09,019 کروڑ روپے کی اگلی قسط ریاستوں کو دی جا رہی ہے۔ یہ رقم ریاستوں کے بجٹ میں آنے والے آمدنی کے خسارے کو کم کرنے اور ان کے مالیاتی انتظام کو آسان بنانے کے لیے اہم ہے۔
ریاستی حکومتوں نے اس منتقلی کے حوالے سے مثبت ردعمل دیا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ انیل بالوانی نے کہا، "یہ اگلی منتقلی ہمارے ترقیاتی پروگراموں کو وقت پر نافذ کرنے میں مدد دے گی اور ہمیں اپنے شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرنے میں قابلِ کار بنائے گی۔" اسی طرح، تملناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم سی vijayan نے بھی اس فیصلے کو "ریاستوں کے لیے ایک مضبوط مالیاتی معاونت" قرار دیا۔
مرکزی حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ منتقلی صرف سرمایہ کاری کے اخراجات کے لیے ہی نہیں، بلکہ ریاستوں کے سماجی بہبود کے پروگراموں کے لیے بھی فراہم کی جائے گی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ تہواروں کے موسم میں خاص طور پر زراعت، دیہی ترقی اور سماجی تحفظ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے لوگوں کی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
اس منتقلی کے بعد، ریاستوں کو اپنے بجٹ کے نظام کو دوبارہ متوازن کرنے اور آنے والے مہینوں میں منصوبوں کے نفاذ کو تیز کرنے کا موقع ملے گا۔ ریاستی حکومتوں کو یہ بھی یاد دلا دیا گیا ہے کہ انہیں اس رقم کا مؤثر طریقے سے استعمال کرنا ہوگا اور وقت پر رپورٹنگ کرنی ہوگی۔
آخر میں، مرکزی حکومت نے اس قدم کو "ریاستوں کی مالیاتی استحکام اور ترقی کے لیے عزم" کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ منتقلی، 1 نومبر 2026 سے مؤثر، ریاستوں کو آنے والے تہواروں کے موسم میں ضروری مالیاتی مدد فراہم کرے گی اور ان کے ترقی و بہبود کے پروگراموں کو وقت پر نافذ کرنے میں مدد دے گی۔