اوپر سولر پینل، نیچے فصلیں: بھارت منڈپم میں ساتویں ایگریوولٹائیک ورلڈ کانفرنس کا مرکزی وزیر شیو راج سنگھ چوہان نے افتتاح کیا
مندپم میں منعقدہ ساتویں ایگریوولٹائیک ورلڈ کانفرنس کا افتتاح مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کیا، جہاں اوپر سےل پیکنگ اور نیچے کاشتکاری کے ماڈل پر بحث ہوئی۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
بھارت کے ریاست اڑیسہ کے مندپم میں حالیہ دنوں میں منعقدہ ساتویں ایگریوولٹائیک ورلڈ کانفرنس کا شاندار افتتاح مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کیا۔ اس اہم تقریب کو "اوپر سولر پینل، نیچے ہلچل دار فصل" کے نعرے سے متاثر کیا گیا، جو جدید زراعت اور قابل تجدید توانائی کے انضمامی ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے زراعت اور توانائی کے شعبے کے ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں کو ایک ساتھ لانا ہے تاکہ ایسے حل پر بحث کی جا سکے جو زمین کے استعمال کی کارکردگی کو بڑھاتے ہوئے ماحولیات کی حفاظت بھی کریں۔
شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے خطاب میں اس ٹیکنالوجیکل انقلاب کی اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ایگریوولٹائکس، جسے کو لوکیٹڈ سولر اور زراعت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، بھارت کے لیے ایک نیا پہلو پیش کرتا ہے۔ اس ماڈل میں سولر پینلز کو اونچائی پر لگایا جاتا ہے تاکہ نیچے پڑنے والی روشنی سے فصلیں صحت مند طریقے سے ترقی کر سکیں۔ اس سے نہ صرف زرعی آمدنی بڑھتی ہے، بلکہ کسانوں کو بجلی پیدا کرنے کا اختیار بھی ملتا ہے، جس سے ان کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے۔
اس ورلڈ کانفرنس میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے اپنی اپنی کامیابیوں کی کہانیاں شیئر کیں۔ مندپم کو اس تقریب کا مقام منتخب کرنے کی وجہ یہی تھی کہ یہاں ماحول دوست متوازن زراعت کی روایت ہے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ منظم کنندگان نے بتایا کہ اس کانفرنس کے ذریعے کسانوں تک براہ راست ٹیکنالوجی پہنچانے اور انہیں تربیت دینے کے وسیع منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس سے بھارتی زرعی نظام کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مضبوطی ملے گی اور توانائی کی حفاظت کے شعبے میں بھی مثبت اثر پڑے گا۔
مندپم میں منعقدہ اس تقریب نے ثابت کیا ہے کہ زراعت اور توانائی کی پیداوار ایک دوسرے کے حریف نہیں، بلکہ مکمل کرنے والے ہیں۔ جب ٹیکنالوجی اور روایت کا درست توازن پایا جاتا ہے، تو اس کا فائدہ معاشرے کے ہر طبقے کو ہوتا ہے۔ شیوراج سنگھ چوہان نے آخر میں تمام شرکاء کو شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوششیں ہی ملک کو عالمی سطح پر زراعت اور توانائی کے شعبے میں پیشہ ور بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اس کانفرنس کی بات چیت آگے چل کر قومی پالیسی سازی میں بھی محرک ثابت ہوگی، جس سے کسانوں کی زندگی کے معیار میں بہتری اور ملک کی توانائی کی حفاظت دونوں مضبوط ہوں گی۔ مندپم کا یہ اہتمام نہ صرف ایک کانفرنس تھا، بلکہ مستقبل کی زراعت کے لیے ایک محرک پلیٹ فارم ثابت ہوا۔