دلّی میں وِجی دسہمی تقریب میں وزیرِ اعظم کے خطاب کا اصل متن
دہلی میں ویکتورم دسمی کے موقع پر منعقدہ تقریب کے دوران وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سناتن دھرم کی عالمی شناخت، جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مذہبی اقدار کی ہم آہنگی اور قوم سازی کے لیے اتحاد کی توقع کا اظہار کیا۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
20 اکتوبر 2026 کو دہلی میں منعقدہ ویکتوریا دہمی کے عظیم تقریب کے مرکزی مہمان کی حیثیت سے وزیراعظم نے ملک بھر کے شہریوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ملک بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین اور علماء کی موجودگی میں وزیراعظم مودی نے اپنے خطاب میں ہندوستانی ثقافت کی شاندار ورثے اور جدید دور کی چیلنجز پر گہرائی سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ویکتوریا دہمی صرف ایک مذہبی تہوار نہیں، بلکہ یہ اخلاقی فتح کی علامت ہے، جہاں سچائی اور دین کی اقدار کا ناقابلِ تباہ اثر نظر آتا ہے۔
خطاب کے آغاز میں وزیراعظم نے سناتن دھرم کی عالمی پذیرائی اور اس کے انسانی نقطہ نظر پر زور دیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ آج کی دنیا میں فساد اور دہشت گردی کے خطرات کے درمیان، ہندوستانی ثقافت کے امن اور برداشت کے پیغام دنیا کے لیے ایک روشنی کے ستون کا کام کر رہے ہیں۔ منظر سے اٹھتی ہوئی خوشی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مذہبی اقدار کو جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کے ساتھ جوڑنا ہوگا، تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم کی نشانی دے سکیں۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں خاص طور پر نوجوان نسل سے خطاب کرتے ہوئے ان سے قوم سازی کے عمل میں فعال شرکت کی توقع رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ویکتوریا دہمی کا یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اہمیت اور اندھی عقیدت سے آزاد ہو کر، ہمیں اجتماعی طور پر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے ملک کے مختلف ریاستوں اور اداروں کے ذریعے منعقدہ ویکتوریا دہمی کے تہوار کی تعریف کی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تہوار پورے ملک میں اتحاد اور بھائی چارے کا ماحول بنا رہا ہے۔
خطاب کے دوران، وزیراعظم نے کانپور اور دیگر اہم شہروں میں ہو رہے تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مذہبی روایات کا جدید پھیلاؤ کیسے ہو رہا ہے۔ انہوں نے زائرین سے اپیل کی کہ وہ مذہب کو صرف رسومات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے زندگی گزارنے کے ایک طریقے کے طور پر اپنانا چاہیے۔ اس سیاق و سباق میں، انہوں نے 'غیر تشدد' اور 'سچائی' کی اقدار کو آگے بڑھانے کے لیے تمام شہریوں کو ذمہ دار بننے کی مشورہ دیا۔
تقریب کے آخری حصے میں، وزیراعظم نے موجودہ تمام علماء، تنظیموں اور عام شہریوں کا شکریہ ادا کیا، جن کی مدد سے یہ تقریب کامیابی سے منعقد ہو سکی۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ یہ ویکتوریا دہمی نئے بھارت کی تعمیر کے لیے ایک محرک موڑ ثابت ہوگی۔ منظر پر کھڑے ہو کر، انہوں نے شہریوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں بھارت مذہب، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی رہنما کے طور پر ابھرے گا۔ اس خطاب نے موجودہ تماشائیوں میں جوش کا ماحول پیدا کیا، جس میں سب نے یکجہتی کے ساتھ وزیراعظم کے پیغام کو قبول کیا۔