لوک سبھا اسپیکر نے بریکس پارلیمنٹس سے اپیل کی کہ انسانی نگرانی کو ترجیح دیتے ہوئے اخلاقی، ذمہ دار اور شفاف ٹیکنالوجی کو فروغ دیں
لوک سبھا کے اسپیکر نے بریکس پارلیمنٹس کے درمیان انسانی نگرانی کو ترجیح دیتے ہوئے اخلاقی، ذمہ دار اور شفاف ٹیکنالوجی کے فروغ کی اپیل کی۔ اس اقدام سے ڈیجیٹل دور میں شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک نیا معیار مقرر کرنے کی امید ظاہر کی گئی۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
بھارت کی لوک سبھا کے اسپیکر نے آج بریکس (برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ) کی پانچ اہم پارلیمنٹس کے درمیان تاریخی اجلاس کے دوران انسانی نگرانی اور اخلاقی ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی انسانی حقوق، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کے مطابق ہو۔
اسپیکر نے کہا، "ہمارا ڈیجیٹل مستقبل صرف تکنیکی نئے طریقوں پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ اس بات پر بھی انحصار کرتا ہے کہ ہم اسے کیسے کنٹرول اور ریگولیٹ کرتے ہیں۔ ہمیں یقینی بنانا چاہیے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی انسانی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے اور کسی بھی قسم کے غلط استعمال سے محفوظ رہے۔" انہوں نے خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI)، بائیومیٹرکس اور ڈیٹا مینجمنٹ کے شعبوں میں انسانی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں شریک بریکس کے نمائندوں نے بھی اسی سمت میں اپنی اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ روس کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ روسی حکومت نے حال ہی میں AI سسٹمز کے لیے ایک نیا اخلاقی فریم ورک اپنایا ہے، جس میں شفافیت اور جوابدہی کے انتظامات شامل ہیں۔ چین کے سائبر سیکیورٹی افسر نے ذکر کیا کہ چین نے ڈیجیٹل شناختی نظاموں میں شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے نئی پالیسیاں نافذ کی ہیں۔ جنوبی افریقہ کے پارلیمنٹری رکن نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیٹا رازداری اور ڈیجیٹل شمولیت کے شعبے میں ان کے ملک نے اہم پیش رفت کی ہے۔
بھارتی جانب سے، وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں ڈیجیٹل انڈیا منصوبے کے تحت 2025 تک تمام شہریوں کے لیے ڈیجیٹل سوادگی اور محفوظ آن لائن سروسز تک رسائی یقینی بنانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت نے AI کے اخلاقی استعمال کے لیے ایک قومی کمیٹی کا قیام کیا ہے، جو بین الاقوامی معیارات کے مطابق پالیسیاں تیار کر رہی ہے۔
اسپیکر نے اس اجلاس کو "انسان مرکزیت والی ڈیجیٹل ترقی" کے لیے ایک نیا سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بریکس کے پانچ ممالک کو مل کر ایک عالمی فریم ورک تیار کرنا چاہیے، جو نہ صرف تکنیکی پیش رفت کو فروغ دے، بلکہ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی حفاظت بھی کرے۔
اس اجلاس کے دوران، بریکس کے رکن ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے "انسانی نگرانی، شفاف الگورتھمز اور جوابدہ ڈیٹا مینجمنٹ" کو اہم ترجیحات قرار دیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ تمام رکن ممالک مل کر ڈیجیٹل دور میں انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیں گے۔
اسپیکر نے اپنے خطاب کو اختتامیہ کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ "ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ یہ ترقی سب کے لیے فائدہ مند ہو اور کسی بھی گروہ کو باہر نہ چھوڑے۔" انہوں نے اس اقدام کو بھارتی عوام کے لیے امید کے طور پر پیش کیا، یہ کہتے ہوئے کہ "ہمارا مقصد یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں تمام شہریوں کو مساوی مواقع ملے اور ان کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔"
اس اجلاس کے بعد، بریکس کے پانچ ممالک کے درمیان ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا، جو اخلاقی ٹیکنالوجی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گا۔ یہ اقدام عالمی سطح پر ڈیجیٹل گورننس کے نئے معیارات قائم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔