مرکزی وزیر سربانند سونوال ڈِبروگر سے پہلی بین الاقوامی مال برداری سفر کو ہری جھنڈی دکھائیں گے
کیندریہ نائب صدر اور وزیر ساروانند سونوال نے ڈیبروگڑھ ریلوے اسٹیشن سے بھارت-بنگلہ دیش سرحد پار کرنے والی پہلی بین الاقوامی سامان بردار ٹرین کو سبز جھنڈی دکھائی۔ یہ سفر علاقائی تجارت اور لاگسٹکس کے لیے ایک نئی سنگ میل ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
تاریخ 5 اکتوبر، 2026 – آسیم کے ڈِبرو گڑھ ضلع میں ایک تاریخی لمحے کو گواہ کرنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ مرکزی وزیر شری سربانند سونوفال، جو آسیم کے علاقائی مفادات کے مضبوط حامی کے طور پر جانے جاتے ہیں، جلد ہی ڈِبرو گڑھ ریلوے اسٹیشن سے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان چلنے والی پہلی بین الاقوامی مال و ہولڈنگ ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ یہ واقعہ نہ صرف ریلوے تاریخ کے لیے بڑی کامیابی ہے، بلکہ شمال مشرقی بھارت کے تجارتی جغرافیہ کو بدلنے والا ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
اس تجویز کردہ سفر کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مال و ہولڈنگ کے ثبوتوں کو تیز کرنا اور تجارتی مواقع کو نئی اونچائیوں تک لے جانا ہے۔ ڈِبرو گڑھ سے شروع ہونے والی یہ ٹرین براہ راست بنگلہ دیش کے اہم بندرگاہوں اور صنعتی مراکز سے جڑیگی، جس سے بھارتی مصنوعات کے برآمد اور غیر ملکی سامان کے درآمد میں تاخیر کم ہوگی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نئی ریلی راستہ علاقائی معیشت کو بُل دے گا اور مقامی کسانوں، تاجروں اور صنعتکاروں کو معاشی فائدہ پہنچائے گا۔
شری سونوفال کے ذریعے اس ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانا صرف ایک علامتی قدم نہیں، بلکہ مرکز حکومت کے "میک ان انڈیا" اور "جَل-جَم-جنگل-جن" منصوبوں کو آسیم میں نافذ کرنے کے لیے ان کی عزم کا نشان ہے۔ اس موقع پر ڈِبرو گڑھ ریلوے اسٹیشن پر خصوصی حفاظتی بندوبست کیا گیا ہے اور یہ دیکھنے کے لیے بھاری تعداد میں لوگوں کا سماجی اور سرکاری نمائندے کا آمد ہو رہا ہے۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ یہ مال و ہولڈنگ ٹرین جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور یہ بھاری وزن کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اثرات کو روکنے کے لیے بھی قدم اٹھانے میں معاون ہوگی، کیونکہ ریلی راستے سے نقل و حمل کاربن اخراج کم کرتا ہے۔
اس اقدام کا اثر براہ راست ڈِبرو گڑھ اور اس کے آس پاس کے اضلاع جیسے سیلہٹ، شیو ساغر اور کریم گنج پر پڑے گا، جہاں زراعت، پرندہ پیداوار اور دستکاری پر مبنی معیشت ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پار ریلی خدمات کا توسیع ان مصنوعات کے بندرگاہوں تک پہنچنے میں مدد کرے گا، جس سے برآمد میں اضافہ دیکھا جائے گا۔ اسی کے ساتھ، بنگلہ دیش سے آنے والے خام مال اور آلات کی دستیابی بھی آسان ہوگی، جس سے مقامی صنعتوں کی لاگت میں کمی آئے گی۔
آسیم حکومت اور مرکزی ریلوے وزارت کے درمیان حالیہ ملاقاتوں میں اس راستے کے بین الاقوامی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو بڑھانے کے لیے یہ ریلی راستہ ایک بڑی حکمت عملی کی کامیابی ہے۔ شری سونوفال نے گزشتہ کئی سالوں سے یہ مطالبہ اٹھایا تھا کہ شمال مشرقی بھارت کو بین الاقوامی تجارت کی بنیادی دھارے سے جوڑا جائے، اور آج ان کی یہ پہل کامیابی سے اپنے پھل دے رہی ہے۔ یہ سفر شروع ہونے کے بعد، ممکنہ طور پر مستقبل میں مسافر خدمات کو بھی اسی راستے پر شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر تعلق مضبوط ہوں گے۔ ڈِبرو گڑھ کے لوگ اس تاریخی دن کو جوش کے ساتھ منا رہے ہیں، کیونکہ یہ ان کے علاقے کی ترقی کی نئی شروعات ہے۔