مرکزی وزیر شی شیو راج سنگھ چوہان نے ملک میں زرعی شعبے کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا اور کسانوں کو بروقت ہر ممکن مدد دینے کے ہدایات دی۔
مرکزی وزیر شری شیوراج سنگھ چوہان نے ملک بھر میں زرعی شعبے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی اور متعلقہ حکام کو کسانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے واضح ہدایات دی۔
Journalism India··0 ویوز·2 منٹ پڑھیں
نئی دہلی۔ منگلوار، 3 نومبر 2026 کو مرکزی وزیر شری شیوراج سنگھ چوہان نے ملک کے زرعی شعبے کی جامع اور گہری جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے نہ صرف موجودہ زرعی پیداوار کی صورتحال کا جائزہ لیا، بلکہ کسانوں کی بہبود کے لیے وسیع حکمت عملیوں پر بھی گفتگو کی۔ وزیر صاحب نے متعلقہ عہدیداروں اور محکموں کو واضح ہدایات دیں کہ کسانوں کے مسائل کے حل اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے فوری کارروائی کی جائے۔
شری چوہان نے اپنے خطاب میں کہا کہ زرعی شعبہ بھارتی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور کسان ہمارے ملک کی جان ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کسانوں کے کفالت کے لیے مکمل طور پر پابند ہے اور کوئی بھی کسان اپنی بنیادی ضروریات سے محروم نہیں رہے گا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وقت پر بیج، کھاد، آبپاشی کی سہولیات اور مارکیٹ تک رسائی جیسی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ کسانوں کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جائزہ اجلاس میں ملک کے مختلف ریاستوں کی زرعی صورتحال کا بھی تجزیہ کیا گیا۔ شری شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ موسم کی غیر یقینی صورتحال، کیڑوں کے مسائل اور مارکیٹ میں قیمتوں کی طے بندی جیسے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے پر بھی زور دیا، تاکہ زرعی پالیسیوں کے نفاذ میں کوئی تضاد نہ ہو۔ وزیر صاحب نے کسانوں کی آمدنی کو دگنا کرنے کی سمت میں اٹھائے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور جدید زرعی طریقوں کو اپنانے کے لیے کسانوں کو حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
اس موقع پر موجود دیگر عہدیداروں نے وزیر صاحب کی ہدایات کی تعمیل کا یقین دلایا۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی ایک خصوصی ورک گروپ کی تشکیل کی جائے گی، جو کسانوں کی شکایات اور تجاویز کو براہ راست مرکزی سطح تک پہنچائے گا۔ شری شیوراج سنگھ چوہان نے اختتامیہ میں کہا کہ کسانوں کی خدمت ہی ملک کی خدمت ہے اور حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی تاکہ ہر کسان کی محنت کو اس کا جائز قیمت مل سکے۔ یہ اجلاس ملک کے زرعی شعبے کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس میں کسانوں کے مفادات کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔