دلی میں 'بھارت ری نیوئبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو' کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا اصل متن۔
دہلی میں منعقدہ 'انڈیا رینوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو' کے افتتاحی تقریب میں وزیراعظم نے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کی سرکردہ حیثیت اور مستدام ترقی کے لیے ماحول کی حفاظت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
دہلی میں 2 نومبر 2026 کو منعقدہ 'انڈیا رینوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو' کا افتتاحی تقریب تاریخی لمحے کا درجہ رکھتی ہے، جہاں وزیراعظم نے ملک اور دنیا کے مالیاتی، صنعتی اور سیاسی حلقوں کے نمائندوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ایک متاثر کن خطاب پیش کیا۔ اس کئی دنوں طویل تقریب کے ابتدائی دن میں وزیراعظم نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو جدید بھارت کی معاشی ریڑھ کی ہڈی بنانے کے اپنے نقطہ نظر کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کی حفاظت اور ماحولیات کی تحفظ اب دو الگ الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مکمل کرنے والے اجزاء ہیں۔ انہوں نے دلائل دیے کہ وہ ملک جو سورج، ہوا اور بائیو ماس جیسے توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، وہی مستقبل کی عالمی معیشت میں قیادت کرنے والا ملک ہوگا۔
خطاب کے دوران وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے 'گلبل انرجی ڈائیلاگ' (GEC) کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تعریف کی، جس نے ملک کو قابل تجدید توانائی کے شعبے میں عالمی اخلاقی اور تکنیکی قیادت کی ذمہ داری دی ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ بھارت نے نہ صرف اپنے ملک کے اندر 175 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت قائم کر لی ہے، بلکہ اب دیگر ترقی پذیر ممالک کو تکنیکی علم اور تجربہ شیئر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ توانائی کی تبدیلی صرف ایک ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ ایک معاشی موقع ہے، جو کروڑوں نوکریوں کو جنم دے گا اور دیہی ترقی کو رفتار دیگی۔
اپنی تقریر کے دوران، وزیراعظم نے معدنی ایندھنوں کی انحصار سے آزادی کے لیے بھارت کی حکمت عملی کو تفصیل سے واضح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سورجی توانائی پارکس کے زمینی استعمال، ہوائی توانائی پلانٹس کی کارکردگی بڑھانے اور گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے تفصیلی پالیسیوں کو نافذ کر رہی ہے۔ اس سمٹ کے دوران ہونے والی مختلف پینل گفتگوؤں میں بھی وزیراعظم کی باتوں کا اثر واضح نظر آ رہا تھا، جہاں بین الاقوامی صنعتوں نے بھارت کے صفر کاربن اخراج کے ہدف (Net Zero by 2070) کو حاصل کرنے کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔
افتتاحی تقریب میں موجود بین الاقوامی تاجر اور سرمایہ کاروں نے بھارت کے توانائی کے شعبے میں ان کی سرمایہ کاری کے لیے کھلا اور موزوں ماحول کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے ان سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز میں بھارت کے ساتھ شراکت کریں، تاکہ دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند تعلقات قائم ہو سکیں۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ یہ سمٹ صرف ایک تجارتی پلیٹ فارم نہیں ہے، بلکہ یہ ان تمام ممالک کا گروپ ہے جو فطرت کے ساتھ توازن قائم کر کے ترقی کرنا چاہتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر، وزیراعظم نے اعلان کیا کہ بھارت اگلے کچھ سالوں میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ مزید بڑھائے گا۔ انہوں نے تکنیکی جدت کو حوصلہ افزائی کرنے اور تعلیمی نظام میں قابل تجدید توانائی کے علم کو شامل کرنے کی بات کی، تاکہ اگلی نسل اس اہم تبدیلی کے لیے تیار ہو سکے۔ 'انڈیا رینوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو' کا یہ پہلا دن نہ صرف ایک تجارتی کامیابی تھی، بلکہ یہ بھارت کے عزم کی بھی عکاسی تھی کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے قابل تجدید توانائی کے پیداوار کنندگان میں سے ایک کے طور پر ابھرے گا۔