'یُوگا سنگم' کے ساتویں مرحلے کے تحت تلنگانہ کی نمائندگی نے آسام کی بھرپور ثقافتی ورثے اور روایات کے بارے میں جانا۔
تیلنگانا کے وفد نے "یووا سنگم" پروگرام کے ساتویں مرحلے میں شرکت کرتے ہوئے آسام کی بھرپور ثقافتی ورثے، روایات اور جغرافیائی تنوع کا مطالعہ کیا، جس سے دونوں ریاستوں کے درمیان ثقافتی سمجھداری کو نئی جوش و خروش ملی۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
ہفتہ، 10 اکتوبر 2026 کو، بھارت کی نوجوان نسل کو ایک ساتھ لانے کے مقصد سے چلائے جا رہے قومی سطح کے اہم پروگرام 'یووا سنگم' کے ساتویں مرحلے کی سرگرمیاں مکمل ہو گئیں۔ اس مرحلے کے تحت تلنگانہ سے آنے والے ایک وفد نے آسام ریاست کی مہذب ثقافتی ورثے، تاریخی مقامات اور رائج روایات کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس تبادلے کا مقصد نہ صرف دونوں ریاستوں کے درمیان ثقافتی فاصلے کو کم کرنا تھا، بلکہ نوجوانوں میں باہمی احترام اور یکجہتی کی حس کو گہرا کرنا بھی تھا۔
وفد کے اراکین کو آسام کے جغرافیائی اور ثقافتی تنوع کو قریب سے محسوس کرنے کا موقع ملا۔ آسام، جسے اکثر 'بھارت کا گارڈن اسٹیٹ' یا 'چارائل آف ڈیلٹا' کے طور پر جانا جاتا ہے، اپنے منفرد موسمی منظرنامے اور مہذب ثقافتی ورثے کے لیے مشہور ہے۔ تلنگانہ کے نوجوانوں نے آسام کے مشہور براہمی تہذیب کے آثار، تاریخی مندروں اور مقامی فنکاروں کی کاریگری کا معائنہ کیا۔ خاص طور پر، انہوں نے آسام کے مشہور بھگوا مہوتسوا اور لہرا مہوتسوا جیسے اہم ثقافتی واقعات کے پیچھے کے سماجی اور تاریخی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کی، جو ریاست کی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔
پروگرام کے دوران، مقامی ماہرین اور روایات کے تحفظ کاروں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں آسام کی لوک فن، موسیقی، رقص اور ادب کے بارے میں تفصیلی معلومات دی گئیں۔ تلنگانہ کے وفد نے آسام کی مشہور ہاڑی کاریگری، کارپٹ بونائی اور کپڑوں کے تنوع کا بھی زندہ تجربہ کیا۔ یہ تجربہ انہیں آسام کے طرزِ زندگی کی سادگی اور فطرت کے ساتھ اس کے گہرے تعلق کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوا۔
'یووا سنگم' پروگرام کے منظم کرنے والوں نے اس ساتویں مرحلے کو ایک کامیاب ثقافتی تبادلے کے طور پر نشان زد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کے پروگرام ملک کے دور دراز ریاستوں کے درمیان ثقافتی سطح پر ایک روایتی پل کے طور پر کام کرتے ہیں، جس سے نوجوان نسل میں وطن دوستی کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں کی ثقافت کے لیے احترام کی حس بھی جاگرتی ہے۔ آسام اور تلنگانہ، دونوں ہی ریاستوں کی اپنی الگ الگ ثقافتی شناخت ہے، اس لیے اس ملاقات نے نوجوانوں کو یہ سمجھنے کا موقع دیا کہ تنوع میں ہی یکجہتی ہے۔
وفد کے اراکین نے اپنی رائے میں بتایا کہ آسام کا سفر ان کے لیے نہ صرف تعلیمی، بلکہ روحانی اور ثقافتی طور پر بھی ایک شاندار تجربہ رہا۔ انہوں نے آسام کی فطرت کی خوبصورتی اور لوگوں کی میزبانی سے متاثر ہو کر کہا کہ یہ تجربہ انہیں اپنے اقدار کو مزید مضبوط کرے گا۔ 'یووا سنگم' کا یہ مرحلہ دونوں ریاستوں کے درمیان مستقبل کے لیے سماجی اور ثقافتی تعاون کے نئے دروازے کھولنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جہاں نوجوان نہ صرف سیاح کے طور پر، بلکہ ثقافتی سفیر کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔