بھارت کی صدر نے شی کر اے آر نارائنن کی یومِ ولادت پر پھولوں کی چڑھاؤ پیش کی
بھارت کی صدر نے ادبی عظیم شخصیت شی کر اے آر نارائنن کی یومِ ولادت پر انہیں پھولوں کی چڑیا پیش کر کے اپنی خراجِ تحسین پیش کی۔ اس موقع پر صدر نے ان کے ادبی کارناموں کی تعریف کرتے ہوئے طلباء کو پیغام دیا۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
27 اکتوبر 2026 کو، بھارت کی صدرِ جمہوریہ نے مشہور ادیب شیخ کے آر نارائنن کی یومِ پیدائش کے موقع پر ایک خصوصی تقریب کے دوران انہیں پھولوں کی چڑیا پیش کی۔ یہ اقدام نہ صرف ان کے احترام کی علامت ہے، بلکہ بھارتی ادب کی بھرپور روایت کو یادگار بنانے کی کوشش کا حصہ بھی ہے۔ صدرِ جمہوریہ نے اس موقع پر شیخ نارائنن کے زندگی اور ادبی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریریں بھارتی ثقافت اور سماجی ساخت کو عالمی منظر نامے پر پیش کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہیں ہیں۔
شیخ کے آر نارائنن کو اکثر 'بھارتی وڈ ہاؤس' کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ ان کے ناولوں اور کہانیوں نے بھارتی درمیانی طبقے کی طرزِ زندگی، تشویشات اور امیدوں کو انتہائی حقیقت پسندی اور دقت کے ساتھ اجاگر کیا۔ صدرِ جمہوریہ نے اس موقع پر خاص طور پر نوجوان قارئین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ نارائنن کے تخلیقی کام آج بھی متعلقہ ہیں اور وہ نئی نسل کو معاشرے کے گہرے عوامی اور ذاتی پہلوؤں کو سمجھنے میں معاون رہے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ طلبہ کو ان کلاسیکی تخلیقات کو پڑھ کر نہ صرف لسانی مہارت میں اضافہ کرنا چاہیے، بلکہ ادب کے ذریعے انسانی اقدار اور سماجی انصاف کے حوالے سے آگاہی بھی پیدا کرنی چاہیے۔
تقریب کے دوران، صدرِ جمہوریہ نے شیخ نارائنن کے اہم کاموں، جیسے 'پگمی'، 'سوامی اور گیتا' اور 'انتکارن' پر بات کی، جو بھارتی ادب کی عالمی سطح پر پہچان بن چکے ہیں۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ ان تخلیقات نے غیر ملکی قارئین کو بھارتی زندگی کی پیچیدگیوں اور سادگیوں کو سمجھنے کا ایک منفرد نقطہ نظر فراہم کیا ہے۔ ساتھ ہی، صدرِ جمہوریہ نے وزارتِ تعلیم اور اکادمی برائے ادب سے اپیل کی کہ وہ ایسے عظیم ادیبوں کے کاموں کو جدید انداز میں دوبارہ شائع کریں اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک پہنچائیں، تاکہ ادب کی یہ بھرپور ورثہ آنے والی نسلیں تک بھی دستیاب رہے۔
آخر میں، صدرِ جمہوریہ نے تمام ادب دوستوں اور قارئین کو شیخ کے آر نارائنن کی یومِ پیدائش کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ادب معاشرے کو جوڑنے اور انسانیت کو گہرائی سے سمجھنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، اور شیخ نارائنن نے اسے اس طرح ثابت کیا ہے کہ ان کے نام کا ذکر کرتے ہوئے بھارتی ادب کا کوئی تعارف ادھورا نہیں رہنے دیتا۔ یہ دن نہ صرف ایک شخصیت کو یاد کرنے کا، بلکہ ادب کی اہمیت کو دہرانے کا موقع ہے۔ صدرِ جمہوریہ کے اس پیغام نے ملک بھر میں ادبی بحث و مباحثے کو نئی سمت فراہم کرتے ہوئے قارئین میں پرانی تخلیقات کو دوبارہ پڑھنے کی خواہش کو جگایا ہے۔