بھارتی حکومت کے وزارتِ ثقافت اور اروناچل پردیش حکومت کے تعاون سے آج اروناچل پردیش کے تھواگ میں بین الاقوامی بدھ کانفرنس کی جانب سے بدھ مت: ہمالیائی علاقہ اور اس سے آگے اس کی پھیلاؤ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
بھارتی حکومت کے وزارتِ ثقافت اور اروناچل پردیش حکومت کے مشترکہ تعاون سے 3 نومبر 2026 کو تھواگ میں بودھ مذہب کے ہمالیائی پھیلاؤ پر بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوا، جس میں مذہبی حلقوں کے نمائندوں نے ہمالیہ کے ثقافتی اہمیت پر بحث کی۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
3 نومبر 2026، منگل کو اروناچل پردیش کے ضلع توائنگ میں ایک تاریخی واقعہ ریکارڈ ہوا، جہاں بدھ مت کے عالمی پھیلاؤ اور اس کی ہمالیائی جڑوں کی شناخت پر مرکوز ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اہم تقریب بین الاقوامی بدھ کانگریس (International Buddhist Congress) کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس کے لیے بھارتی حکومت کے وزارتِ ثقافت اور اروناچل پردیش حکومت نے مل کر مکمل تعاون فراہم کیا۔ کانفرنس کا مرکزی موضوع 'بدھ مت: ہمالیائی علاقہ اور اس سے آگے پھیلاؤ' طے کیا گیا تھا، جس کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں سے نکل کر یہ مذہبی مرکز کیسے پورے دنیا میں پھیل گیا اور آج کون سی کردار ادا کر رہا ہے۔
توائنگ کا انتخاب اس تقریب کے لیے انتہائی معنادار سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ علاقہ صدیوں سے بدھ ثقافت کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ یہاں واقع قدیم غاروں کے مندر اور وِہارز عالمی سطح پر اپنی منفرد فنکاری اور روحانی گہرائی کے لیے جانی جاتے ہیں۔ اس کانفرنس میں ملک و بیرون سے آنے والے مذہبی رہنماؤں، مورخین، فلسفیوں اور پالیسی سازوں نے ہمالیائی علاقے کی ثقافتی ورثے کو عالمی منظر نامے پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ خطاب اور پینل ڈسکشنز کے دوران یہ دلیل دی گئی کہ ہمالیہ صرف ایک جغرافیائی تشکیل نہیں، بلکہ ایک ثقافتی رکاوٹ اور رابطے کا ذریعہ بھی رہا ہے، جس نے بدھ فلسفے کو مشرقی ایشیا سے لے کر جنوبی ایشیا تک لے جاتے ہوئے ایک منفرد شناخت فراہم کی ہے۔
وزارتِ ثقافت کے نمائندوں نے اپنے بیان میں اس تقریب کو بھارت کی ثقافت کو عالمی سطح پر سمجھانے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش، خاص طور پر توائنگ، بھارت کی ثقافتی تنوع کو ظاہر کرنے کا ایک زندہ مثال ہے۔ اروناچل پردیش حکومت نے بھی اس موقع پر اپنے تعاون کی تکرار کی اور بتایا کہ ریاستی حکومت مذہبی سیاحت اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
کانفرنس کے دوران مختلف ورکشاپس کا بھی انعقاد کیا گیا، جن میں بدھ فلسفے کے جدید تناظر، مذہب اور ماحول کے درمیان تعلق، اور ہمالیائی برادریوں کی شناخت جیسے موضوعات پر گہری بحث ہوئی۔ ماہرین نے تجویز دی کہ مستقبل میں ایسی مزید تقریبات منعقد کی جائیں تاکہ ہمالیائی علاقے کی ثقافتی ورثے کو نوجوان نسل تک پہنچایا جا سکے اور اسے موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز کے خلاف تحفظ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
یہ کانفرنس نہ صرف بدھ مت کے تاریخ کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہمالیائی علاقے کے کردار کو دوبارہ تعریف کرنے میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔ توائنگ میں ہونے والی اس نشست سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اور ریاستی حکومت کا تعاون مذہبی اور ثقافتی تبادلے کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔