کپڑے کے وزارت نے 31 دسمبر 2026 تک آر او ایس سی ٹی ایل اسکیم کی توسیع کر دی
کپڑا وزارت نے اعلان کیا ہے کہ آر او ایس سی ٹی ایل (رجسٹرڈ آرڈر سپلائی چین ٹریکنگ لسٹ) منصوبے کو 31 دسمبر 2026 تک بڑھایا جائے گا۔ اس فیصلے سے دیہی اور شہری دونوں علاقوں کے کپڑوں کے پروڈیوسرز کو فائدہ ہوگا اور سپلائی چین میں شفافیت برقرار رہے گی۔
Journalism India··0 ویوز·4 منٹ پڑھیں
کپڑا وزارتِ عظمیٰ نے آج (1 اکتوبر 2026) ایک پریس ریلیز کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ آر او ایس سی ٹی ایل (رجسٹرڈ آرڈر سپلائی چین ٹریکنگ لسٹ) اسکیم کی مدت 31 دسمبر 2026 تک بڑھا دی جائے گی۔ یہ قدم حکومت کی جانب سے کپڑوں کے شعبے میں شفافیت، ٹریس بلیٹی اور مقابلہ جہت کو بڑھانے کے جاری اقدامات کا حصہ ہے۔
وزارتِ عظمیٰ کے ترجمان راجیو پٹیل نے بتایا کہ آر او ایس سی ٹی ایل اسکیم 2023 کے آخر میں نافذ کی گئی تھی اور اس وقت سے یہ اسکیم کپڑوں کے صنعتی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت تمام اہم کپڑوں کے پروڈیوسرز، مینوفیکچررز، تھوک ڈیلرز اور خوردہ فروخت کنندگان کو اپنے آرڈرز اور سپلائی ڈیٹا کو ایک منظم ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر درج کرنا لازمی ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے حکومت اور صنعتی ذمہ داران پیداوار، تقسیم اور فروخت کے ہر مرحلے کو حقیقی وقت میں ٹریک کر سکتے ہیں۔
"اس توسیع کے ساتھ، ہم یقینی بنارہے ہیں کہ دیہی اور شہری دونوں سطح پر کپڑوں کے پروڈیوسرز اپنا سپلائی چین بہتر طریقے سے منظم کر سکیں،" پٹیل نے کہا۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ اس مدت میں اسکیم کے تحت کئی نئی سہولیات شامل کی جائیں گی، جیسے کہ خودکار رپورٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور سپلائی چین میں خطرات کی شناخت کے لیے AI پر مبنی ٹولز۔
فی الحال آر او ایس سی ٹی ایل اسکیم کے تحت 12,000 سے زائد کپڑوں کے پروڈیوسرز رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں سے 7,500 چھوٹے اور مائیکرو انٹرپرائزز (SMEs) اور 4,500 بڑے ادارے شامل ہیں۔ اسکیم کی توسیع 31 دسمبر 2026 تک ہونے کی وجہ سے، حکومت نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ اس مدت میں رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان بنایا جائے گا۔ نئے رجسٹریشن کے لیے آن لائن فارم دستیاب کیا جائے گا اور رجسٹریشن فیس میں 10 فیصد کی کمی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ، وزارتِ عظمیٰ نے یہ بھی بتایا کہ آر او ایس سی ٹی ایل پلیٹ فارم پر ڈیٹا کی حفاظت کو بڑھانے کے لیے نئے سائبر سیکیورٹی پروٹوکول نافذ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ایک "ٹریکنگ اور ٹریسنگ ہیلپ لائن" قائم کی ہے، جس پر کسی بھی قسم کی مشکل یا شک کے دوران پروڈیوسرز 24/7 مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
صنعت کے اہم کھلاڑیوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ ریشمی سِلکس لمیٹڈ کے چیئرمین ساکشی شرما نے کہا، "آر او ایس سی ٹی ایل کی توسیع ہمارے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے ہمیں اپنے سپلائی چین میں بہتر دیکھ بھال ملے گی اور ہم اپنے گاہکوں کو وقت پر اور معیاری مصنوعات فراہم کر سکیں گے۔"
دوسری طرف، کچھ چھوٹے اداروں کے مالکین نے اس توسیع کے حوالے سے کچھ خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ڈیٹا درج کرنے کے لیے انہیں تکنیکی مدد کی ضرورت ہے۔ حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک "ڈیجیٹل سوادگی پروگرام" شروع کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس میں دیہی علاقوں میں مفت تربیتی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔
اس اسکیم کی توسیع کے ساتھ، کپڑا وزارتِ عظمیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ 2027 کے پہلے سہ ماہی تک آر او ایس سی ٹی ایل کے تحت رجسٹرڈ تمام اداروں کو سالانہ آڈٹ رپورٹ ملے گی۔ یہ رپورٹ ہر ادارے کے سپلائی چین کی کارکردگی، لاگت اور وقت کی پابندی کا جائزہ لے گی۔
عوامی مفاد میں، اس قدم سے کپڑوں کے شعبے کی شفافیت بڑھے گی اور صارفین کو بھی بہتر مصنوعات ملیں گی۔ وزارتِ عظمیٰ نے کہا کہ یہ توسیع صرف ایک ضابطہ ساز اقدام نہیں بلکہ ایک حکمت عملی پر مبنی اقدام ہے، جس کا مقصد بھارت کو عالمی کپڑوں کے بازار میں مقابلہ جہت بنانا ہے۔
اس طرح، کپڑا وزارتِ عظمیٰ نے 31 دسمبر 2026 تک آر او ایس سی ٹی ایل اسکیم کی توسیع کر کے کپڑوں کے صنعتی سپلائی چین میں شفافیت، ٹریس بلیٹی اور کارکردگی کو مزید مضبوط کرنے کا مقصد رکھا ہے۔ یہ فیصلہ صنعت کے تمام ذمہ داران کے لیے ایک نئی سمت اور امید لے کر آیا ہے۔