‘ترقی یافتہ بھارت 2047’ کی جانب شہری انتظام، منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی کو مضبوط کرنے سے متعلق عملی تجاویز کے ساتھ ‘قومی شہری کانفرنس 2026’ مکمل
قومی شہری کانفرنس 2026 کے ذریعے ترقی یافتہ ہند 2047 کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے شہری انتظامیہ، منصوبہ بندی اور خدمات کی مؤثر فراہمی کو مستحکم کرنے کے عملی حل پیش کیے گئے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
ملک، 26 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے 'قومی شہری کانفرنس 2026' نے بھارت کے شہری ترقی کی سمت میں ایک نیا موڑ پیدا کیا ہے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد 'ترقی یافتہ بھارت 2047' کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے شہری انتظامیہ، شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور عوامی خدمات کی فراہمی کے نظاموں کو مضبوط بنانے کے عملی مشوروں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس جامع اجلاس میں وفاقی حکومت کے متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ عہدیدار، ریاستی حکومتوں کے شہری ترقیاتی محکموں کے نمائندے، مقامی اداروں کے سربراہان، شہری ترقی کے ماہرین، محققین اور نجی شعبے کی معتبر کمپنیوں کے عہدیدار شامل ہوئے۔
کانفرنس کے دوران پیش کردہ اہم نکات میں موجودہ شہری چیلنجز کا گہرا تجزیہ شامل تھا۔ ماہرین نے زور دے کر کہا کہ آنے والے دو دہائیوں میں بھارت کی آبادی کا بڑا حصہ شہروں میں آباد ہوگا، لہٰذا شہروں کو نہ صرف آبادی بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے عالمی اثرات اور تیزی سے بڑھتی مانگوں کو بھی سنبھالنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔ اسی سیاق و سباق میں، شہری انتظامیہ کے عمل کو زیادہ شفاف، درست اور شہری‑مرکوز (citizen‑centric) بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
کانفرنس کے دوران 'سمارٹ سٹی' ترقی، پائیدار نقل و حمل (sustainable mobility) اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے انضمام پر تفصیلی بحث ہوئی۔ شرکاء نے یہ تجویز دی کہ شہری منصوبہ بندی اب صرف جسمانی ڈھانچوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ سماجی، معاشی اور ماحولیاتی پائیداری کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ خدمات کی فراہمی میں جدید ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیٹا اینالٹکس کے استعمال کو فروغ دینے سے انتظامی کارکردگی میں بہتری آئے گی، یہ بھی ایک اہم نتیجہ نکلا۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک منسقہ عمل منصوبہ (Action Plan) منظور کیا گیا، جس میں 'ترقی یافتہ بھارت 2047' کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے شہری اداروں کو دی جانے والی اختیارات اور ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت، ریاست اور وفاقی حکومت کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک متوازی ادارہ جاتی ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، شہری سرمایہ کاری کے لیے اختراعی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے اختراع‑مرکوز پالیسیوں کو نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
کارکردگی کے آخری دن، کانفرنس کے منتظمین نے تمام شرکاء کو مشترکہ طور پر شیئر کی گئی حتمی رپورٹ اور سفارشات کی کتابچہ تقسیم کی۔ اس دستاویز میں 'ترقی یافتہ بھارت 2047' کی سمت میں شہری انتظامیہ، منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی کو مضبوط کرنے کے 50 سے زیادہ عملی مشورے شامل ہیں، جنہیں اگلے تین سالوں میں نافذ کیا جانا ہے۔ یہ کانفرنس نہ صرف ایک تبادلہ خیال کا پلیٹ فارم تھا، بلکہ یہ بھارت کے شہری مستقبل کے لیے ایک روڈ میپ کا بھی روپ اختیار کرتا ہے، جو آنے والے وقت میں ملک کی شہری ترقیاتی پالیسیوں کو متاثر کرنے کی امید ہے۔