بھارت نے اپنے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لڑائی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے رامسار مقامات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جہاں ملک کی قدرتی دولت کے تحفظ کو ایک اہم ترجیح بنایا گیا ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
بھارت میں واقع 'رامسر مقامات' (Ramsar Sites) صرف جغرافیہ کی کتابوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ ملک کے ماحولیاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ جیسا کہ 25 اکتوبر 2026 کی موجودہ تاریخ میں دیکھا جا رہا ہے، بھارت نے اپنے اندرونی اور بیرونی رپورٹس میں ان مقامات کے تحفظ کو قومی سلامتی اور موسمی انصاف کا ایک اہم جزو قرار دیا ہے۔ 'رامسر مقامات' کے لفظ کا استعمال ان قدرتی ندیوں، چشموں اور گیلوں (Wetlands) کے لیے کیا جاتا ہے جنہیں رامسر کنونشن (Ramsar Convention) کے تحت بین الاقوامی سطح پر پہچان حاصل ہے۔ بھارت، جو دنیا کے سب سے پیچیدہ موسمیاتی پیٹرنز والا ملک ہے، ان مقامات کے ذریعے نہ صرف پانی کی دستیابی کو یقینی بنا رہا ہے، بلکہ جنگلی جانوروں کے وجود کو بھی بچا رہا ہے۔
حال کے برسوں میں، خاص طور پر 2020 کی دہائی کے بعد، بھارت نے ان مقامات کی تعداد میں نمایاں اضافہ درج کیا ہے۔ ہریانہ کی کالی بدوالا جھیل سے لے کر کیرلا کے گیلوں کے علاقوں تک، اور آسام کے براہمپوتر درے کی ندیوں تک، 'رامسر مقامات' اب صرف سیاحتی کشش نہیں، بلکہ زرعی پیداواری صلاحیت اور شہری ترقی کے لیے بھی ایک بنیادی وسائل بن گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ 2026 میں، جبکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گیلوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، بھارت کا ان مقامات کے انتظام کا نقطہ نظر ایک نمونے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس سیاق و سباق میں، 'رامسر مقامات' کی شراکت داری میں مقامی برادریوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ بہت سے معاملات میں، مچھلی پکڑنے والے اور کسان، جنہیں پہلے ان علاقوں کے انتظام سے باہر رکھا جاتا تھا، اب 'رامسر مقامات' کے تحفظ کمیٹیوں کا حصہ بن کر فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ تعاونی ماڈل (Collaborative Model) نہ صرف ماحول کو بچاتا ہے، بلکہ مقامی معیشت کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، راجستھان اور گجرات کے کچھ مقامات پر پیکج ٹورزم کے ذریعے دیہی ترقی کو ایک نئی سمت ملی ہے، جس سے 'رامسر مقامات' کے نام سے جڑا اثر اب مقامی لوگوں کی زندگی کے معیار تک پہنچ گیا ہے۔
تاہم، چیلنجز بھی ہیں۔ شہری کاری کا دباؤ، صنعتی فضلہ، اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ، 'رامسر مقامات' کی یکجہتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق، کئی مقامات پر پانی کی معیاری کیفیت میں کمی درج کی گئی ہے، جس کے لیے نئے تکنیکی مداخلتوں کی ضرورت ہے۔ حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں نے مل کر ایک 'سمارٹ مانیٹرنگ سسٹم' شروع کیا ہے، جس میں سیٹلائٹ امیجری اور AI کے استعمال سے 'رامسر مقامات' کی ہر چیز کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
نتیجتاً، بھارت میں 'رامسر مقامات' اب صرف ایک ماحولیاتی اصطلاح نہیں، بلکہ ایک قومی شناخت بن چکی ہے۔ یہ مقامات ہمیں سکھاتے ہیں کہ ترقی اور ماحول کے درمیان توازن ممکن ہے، بشرطیکہ ہم 'رامسر مقامات' کے عالمی معیارات کی پابندی کرتے ہوئے مقامی سیاق و سباق کو سمجھیں۔ آنے والے برسوں میں، بھارت کا مقصد نہ صرف ان مقامات کی تعداد بڑھانا، بلکہ ان کی معیاری کیفیت اور تحفظ کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے، تاکہ یہ دولت آنے والی نسلوں تک محفوظ طریقے سے پہنچ سکے۔ اس طرح، 'رامسر مقامات' بھارت کی ماحولیاتی یکجہتی اور عالمی ذمہ داری کا ایک زندہ ثبوت ہیں۔