وزیراعظم نے مہالیا تہوار کے موقع پر ملک بھر کے شہریوں کو مبارکباد پیش کی، جس میں ان کی دعائیں اور ملک کے ترقی کے لیے دعا شامل تھی۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
بنگال کی ثقافت اور روایات کا ایک انتہائی اہم تہوار، مہالیا، اس بار بھی پورے ملک میں جوش و جذبے اور عقیدت کے ماحول میں منایا گیا۔ اس مقدس موقع پر وزیراعظم نے قومی سطح پر مبارکباد پیش کی، جس میں انہوں نے نہ صرف مغربی بنگال کے عوام کو بلکہ پورے ملک کے باشندوں کو اپنی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور خواہشات دیں۔ وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ مہالیا کا دن روایتی اقدار، خاندانی رشتوں اور روحانی مشق کو نیا معنی دیتا ہے۔
مہالیا کا تہوار بنیادی طور پر مغربی بنگال میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے، جہاں لوگ اپنے اجداد کی ارواح کو محبت اور احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ اس دن کا خاص اہمیت اس بات سے جڑا ہے کہ یہ تہوار نرک چوتھس، یعنی دہمی کی رات سے پہلے، انتقال پذیر اجداد کو سلامی پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں یہ بھی اپیل کی کہ اس مقدس موقع پر تمام شہری اپنے خاندان کی محبت اور یکجہتی کو مضبوط کریں اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام پھیلائیں۔
قومی قیادت کی جانب سے پیش کی گئی ان خواہشات نے ملک بھر میں ایک مثبت ردعمل کو جنم دیا۔ ماہرین اور ثقافتی ماہرین کا ماننا ہے کہ جمہوریت کے نمائندہ اور ملک کے عہدے دار کے ذریعے ایسے مقامی اور ثقافتی تہواروں کو تسلیم کرنا ثقافتی تنوع کے احترام کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کی تہذیب کی شان اسی تنوع میں پوشیدہ ہے، جہاں مختلف علاقائی تہوار اور میلے مل کر قوم کی یکجہتی کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
مہالیا کے دن مغربی بنگال کے گاؤں اور شہروں میں خصوصی جشن دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں لوگ اپنے خاندان کے ساتھ مل کر اجداد کی پونتی (مرگ کی یاد) مناتے ہیں اور ویشوامبر یا دیگر مقامات پر روایتی رسومات کا اہتمام کرتے ہیں۔ انتظامی سطح پر بھی اس تہوار کو مد نظر رکھتے ہوئے حفاظت اور انتظام کے لیے خصوصی تیاریاں کی گئیں، تاکہ شہری کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے روایتی فرائض کی ادائیگی کر سکیں۔ وزیراعظم کی جانب سے دی گئی یہ خواہشات شہریوں کے درمیان عقیدت اور وطن پرستی کے جذبات کو مزید گہرا کرنے کا کام کرتی ہیں۔
اس موقع پر یونیورسٹیوں، اسکولوں اور سرکاری دفاتر میں بھی خصوصی دعائیں اور اجتماعات منعقد کیے گئے۔ لوگوں نے وزیراعظم کے پیغام کو فخر کی نظر سے دیکھا اور اسے قومی یکجہتی کے ایک مضبوط ستون کے طور پر تسلیم کیا۔ آخر میں، اس امید کا اظہار کیا گیا کہ مہالیا کے اس مقدس پیغام کے ذریعے ملک میں محبت، امن اور روحانی ترقی کا ماحول قائم رہے گا اور یہ تہوار آنے والے دنوں میں بھی اپنے قدیم جذوروں کو محفوظ رکھتے ہوئے نئی توانائی کے ساتھ منایا جائے گا۔