پریمیر وزیر اور عوامی جماعت کے صدر نے مہاتما گاندھی اور شیرا لال بہادر شاستری کو احترام کی ادایگی کی
2 اکتوبر کو وزیراعظم اور لوک سبھا اسپیکر نے ماہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی یاد میں جذباتی خراجِ عقیدت پیش کیا، جس میں صدر کے ذریعے کی گئی تقریب بھی شامل رہی۔
Journalism India··1 ویوز·3 منٹ پڑھیں
شुक्रوار، 2 اکتوبر، 2026 کو ملک بھر میں ایک سنجیدہ اور احترام بھرا ماحول قائم رہا، جب بھارت کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے حکام نے قوم کے دو عظیم بانیوں، مہاتما گاندھی اور پہلے وزیر اعظم شری لاہ بہادر شاستری کو سراہا۔ اس موقع پر، وزیر اعظم اور عوامی اسمبلی کے صدر نے ایک ساتھ آکر دونوں عظیم شخصیات کو جذباتی احترام پیش کیا۔ یہ تقریب نہ صرف ان کا روحانی نمونہ ہے، بلکہ یہ ملک کے جمہوری اقدار اور قومی اتحاد کے لیے وقف کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
تقریب کا آغاز صدر کے ذریعے کی گئی تشریف لے کے ساتھ ہوا، جس میں مہاتما گاندھی کے غم کی گہرائی اور ان کے عدم تشدد کے پیغام کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے عوام کو پیغام دیا گیا۔ صدر نے پھر یاد دلایا کہ کس طرح مہاتما گاندھی نے اپنی زندگی بھر کی جدوجہد کے ذریعے ملک کو آزادی کا راستہ دکھایا تھا، جس نے تقسیم شدہ معاشرے کو متحد کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اس کے فوراً بعد، توجہ شری لاہ بہادر شاستری کی طرف گئی، جنہیں 'لاہ بہادر' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر لاہ بہادر شاستری کی سادہ زندگی، ان کی فیصلہ کنیت اور خاص طور پر 1965 کے جنگ میں بھارت کی حفاظت کے لیے ان کی بے مثال قیادت کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہ بہادر شاستری کی 'جے جوان، جے کسان' کی اعلان آج بھی بھارتی معاشرے کے لیے ایک رہنمائی کا جادو ہے۔
عوامی اسمبلی کے صدر نے بھی اس موقع پر اپنے جذباتی الفاظ میں دونوں عظیم شخصیات کی وراثت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ذکر کیا کہ مہاتما گاندھی اور لاہ بہادر شاستری کا مشترکہ یادگار، جو قومی سطح پر ایک اہم مقام ہے، عوام کے لیے ایک تحریک کا ذریعہ بن کر موجود ہے۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ آج کے پیچیدہ عالمی منظرنامے میں، ان دونوں رہنماؤں کے ذریعے قائم کردہ اقدار—عظمت، خدمت اور وطن پرستی—کو اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ ان عظیم شخصیات کی زندگی سے تحریک لیں اور قوم کے ترقی کے لیے سرگرمی سے حصہ لیں۔
تقریب کے دوران، دونوں رہنماؤں کے پورٹریٹ پر پھول پیش کیے گئے اور ایک منٹ کی خاموش احترام میں ملک بھر کے شہریوں نے بھی اپنے اپنے مقامات پر شرکت کی۔ یہ خاموش دورانیہ نہ صرف احترام کا مظاہرہ تھا، بلکہ یہ بھی اس بات کی تجدید تھی کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جو اپنے تاریخ کے عظیم شخصیات کو کبھی نہیں بھولتا۔ اس موقع پر، انتظامی حکام، فوجی کمانڈ اور سماجی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے، جنہوں نے اس قومی تقریب میں اپنے اپنے سطح پر حصہ لیا۔
وزیر اعظم اور عوامی اسمبلی کے صدر کی جانب سے کی گئی یہ احترام ایک اشارہ ہے کہ بھارت اپنے ماضی کے عظیم لوگوں کی یادوں کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ تقریب ختم ہونے کے بعد، دونوں رہنماؤں نے عوام کو پیغام دیا کہ اتحاد اور ضبط کے ساتھ آگے بڑھنا ہی بھارت کی ترقی کی کلید ہے۔ اس طرح، 2 اکتوبر، 2026 کا دن نہ صرف احترام کا دن تھا، بلکہ یہ قومی خود بیداری اور وقف کے نئے عہد کا دن بھی تھا، جس نے پورے ملک میں اتحاد اور تحریک کی لہر قائم کی۔