پرائم منسٹر نے راجت پدک جیتنے پر راوی کارٹیک بودیگینا کو مبارکباد دی
وزیراعظم نے راجت کارٹیک بودیگینا کو ایشیائی پیرا گیمز میں سونے کے بعد چاندی کے تمغے جیتنے پر دلی مبارکباد دی اور اس کامیابی کو ملک کے لیے فخر کا باعث قرار دیا۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
رئیسِ وزیر نریندرا مودی نے آج ایشین پارا گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے بھارتی دوڑنے والے رَوی کارٹیک بُدیگینا کو دل سے مبارکباد دی۔ یہ مبارکباد تقریب بنگلور میں منعقد ہوئی، جہاں رئیسِ وزیر نے بُدیگینا کے ساتھ مل کر ان کی کامیابی کا جشن منایا۔
رَوی کارٹیک بُدیگینا، جو کہ ۲۰ سال کے ہیں، نے ۲۰۲۶ کے ایشین پارا گیمز میں ۱۰۰ میٹر شارٹ ڈسٹنس میں چاندی کا تمغہ جیتا۔ یہ جیت ان کے لیے ایک نیا سنگ میل ہے، کیونکہ انہوں نے اس سے پہلے بھی قومی سطح پر کئی مقابلوں میں تمغے جیتے ہیں۔ بُدیگینا نے اپنے والد، شری سُدیپ بُدیگینا کی مدد سے تربیت لی، اور انہوں نے اپنے خوابوں کو ساکار کرنے کے لیے مسلسل سخت محنت کی ہے۔
رئیسِ وزیر نریندرا مودی نے کہا، “رَوی کارٹیک بُدیگینا، تمہاری اس کامیابی پر میں تمہیں مبارکباد دیتا ہوں۔ تم نے نہ صرف اپنی محنت اور مضبوط عزم سے ہمیں فخر محسوس کروایا، بلکہ ملک کے لیے بھی ایک تحریک بن گئے ہو۔ تم نے یہ دکھا دیا کہ کسی بھی صورتحال میں خواب سچ ہو سکتے ہیں۔”
بُدیگینا نے اپنی رائے میں کہا، “شکریہ، محترم رئیسِ وزیر، آپ کی اس تعریف کے لیے میں شکر گزار ہوں۔ میں اس تمغے کو اپنے خاندان، کوچ اور تمام حامیوں کے ساتھ بانٹتا ہوں۔ میں آگے بھی اپنے کھیل میں بہتری لاؤں گا اور ملک کے لیے اور بھی فخر کا سبب بنوں گا۔”
اس پروگرام کے دوران، رئیسِ وزیر نے بُدیگینا کے خاندان کے اراکین کو بھی مبارکباد دی اور انہیں اپنے خوابوں کو ساکار کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت پارا گیمز کے کھلاڑیوں کے لیے بہتر سہولیات اور تربیتی مراکز کی انتظام کرے گی تاکہ مزید نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔
رَوی کارٹیک بُدیگینا کے اس چاندی کے تمغے سے بھارتی پارا کھیلوں کی شہرت بڑھی ہے۔ اس جیت کے ساتھ، بھارت نے ایشین پارا گیمز میں کل ۲۳ تمغے جیتے ہیں، جن میں ۸ سونے، ۹ چاندی اور ۶ برونزی تمغے شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار بھارت کے پارا کھیلوں میں مسلسل ترقی کو ظاہر کرتے ہیں۔
رئیسِ وزیر نے اس موقع پر یہ بھی کہا، “ہمارا مقصد ہے کہ ہر نوجوان، چاہے وہ جسمانی طور پر اہل ہو یا معذور، کو برابر کے مواقع ملیں۔ ہم کھیلوں میں شمولیت کو فروغ دینے کے لیے نئی پالیسیوں کو نافذ کریں گے۔”
رَوی کارٹیک بُدیگینا کی کامیابی نے معاشرے میں پارا کھیلوں کے لیے آگاہی بڑھائی ہے۔ ان کی کہانی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مشکلات ہمیں نہیں روک سکتی، بلکہ انہیں پار کرنے کے لیے ہمیں مزید کوششیں کرنی چاہئیں۔
اس طرح، رئیسِ وزیر نریندرا مودی کی مبارکباد اور حمایت سے رَوی کارٹیک بُدیگینا اور دیگر پارا کھیلوں کے کھلاڑیوں کے لیے ایک نئی تحریک کا قیام ہوا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کھیل صرف مقابلہ نہیں، بلکہ معاشرے میں برابری اور شمولیت کا پیغام بھی دیتے ہیں۔