وزیراعظم نے ہیمانشو ناندل کو ایشیائی پیرا گیمز میں برنز میڈل جیتنے پر مبارکباد دی
وزیراعظم نے ہیمانشو ناندل کو ایشیائی پیرا گیمز میں برنزی تمغہ جیتنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی اور انہیں قومی فخر کے نمونے کے طور پر سراہا۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
جیت کا لمحہ: ایشیائی پیرا گیمز میں ہیمانشو ناندل کا برنز میڈل
بنگلور، 21 اکتوبر 2026 – 21 اکتوبر 2026 کو ایشیائی پیرا گیمز کے 10,000 میٹر ریلی ایونٹ میں بھارت کے رنر ہیمانشو ناندل نے شاندار کارکردگی دکھا کر برنز میڈل جیتا۔ اس کامیابی پر بھارتی عوام اور کھیلوں کے میدان کے اہم شخصیات نے یکجا ہو کر خوشی بھری مبارکباد کے پیغامات بھیجے، جن میں سب سے نمایاں طور پر وزیراعظم نے بھی اپنی مبارکباد ادا کی۔
وزیراعظم کے پیغام کا خلاصہ وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا، "ہیمانشو ناندل کو ایشیائی پیرا گیمز میں برنز میڈل جیتنے پر دل سے مبارکباد۔ آپ کی کارکردگی نہ صرف بھارت کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ آپ کے بے پناہ محنت اور تفان کی علامت بھی ہے۔ اسی طرح آگے بڑھتے رہیں۔" اس پیغام کے ساتھ وزیراعظم نے ناندل کی تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ ٹرافی تھامے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ہیمانشو ناندل کا سفر ہیمانشو ناندل کا جنم 12 مارچ 1995 کو تملناڈو کے تیروچیراپالی میں ہوا تھا۔ بچپن میں انہیں موٹر نیورون ڈیزیز سے لڑنا پڑا، لیکن انہوں نے اپنے خوابوں کو کبھی نہیں چھوڑا۔ 2019 میں، انہیں ایشیائی پیرا گیمز کے لیے منتخب کیا گیا اور 2022 میں انہوں نے پہلی بار برنز میڈل جیتا۔ 2026 میں، انہوں نے اس برنز میڈل کو دوبارہ جیت کر اپنی قابل اعتمادی اور مضبوط ارادے کو مزید مستحکم کیا۔
ایشیائی پیرا گیمز کی اہمیت ایشیائی پیرا گیمز 2026 کو بنگلور میں منعقد کیے گئے تھے، جن میں 40 سے زائد ممالک کے 500 سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ اس مقابلے میں بھارت نے کل 23 میڈلز جیتے، جن میں 8 سونے، 7 چاندی اور 8 برنز میڈلز شامل تھے۔ ہیمانشو ناندل کا برنز میڈل اس کل مجموعے میں ایک اہم حصہ تھا۔
تربیت اور حمایت ہیمانشو ناندل کی تربیت کولکتہ کی قومی کھیلوں کی اکاڈمی میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی جسمانی صلاحیت اور ذہنی مضبوطی کو نکھارا۔ ان کی کوچ، ساکشی دیوی، نے کہا، "ہیمانشو نے اپنی تربیت کے دوران بے پناہ محنت دکھائی ہے۔ ان کے اندر ایک غیر قابل تباہ روح ہے جو انہیں ہر چیلنج پر قابو پانے کے لیے اٹھاتی ہے۔"
قومی اور بین الاقوامی ردعمل ہر سطح پر ہیمانشو ناندل کی کامیابی کو سراہا گیا۔ بھارتی وزیر کھیل نے بھی ان کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "ہیمانشو نے ہمیں دکھایا ہے کہ کسی بھی صورتحال میں ہار ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔" اس کے علاوہ، ایشیائی پیرا گیمز کی تنظیمی کمیٹی نے بھی ان کی کارکردگی کی تعریف کی اور انہیں 'اعلیٰ درجے کا کھلاڑی' کا خطاب دیا۔
آئندہ کے منصوبے ہیمانشو ناندل نے آئندہ کے منصوبوں کے بارے میں انکشاف کیا کہ وہ اگلے سال کے ایشیائی پیرا گیمز میں سونے کا میڈل جیتنے کا ہدف رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں اس کامیابی کو ایک محرک کے طور پر لے رہا ہوں۔ میں اپنی تربیت کو مزید شدت سے کروں گا اور اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے مکمل طور پر تفان برقرار رکھوں گا۔"
نتیجہ ہیمانشو ناندل کی یہ جیت نہ صرف ان کے ذاتی فخر کی علامت ہے بلکہ بھارت کے کھیلوں کے میدان میں بھی ایک نیا باب لکھتی ہے۔ وزیراعظم کی دل کی گہرائیوں سے آئی مبارکباد کے ساتھ، یہ کامیابی سب کو یہ سکھاتی ہے کہ مضبوط ارادے، محنت اور یقین سے کوئی بھی ہدف ممکن ہے۔ اس طرح، ایشیائی پیرا گیمز میں ان کا برنز میڈل بھارتی کھیلوں کی تاریخ میں ایک یادگار صفحے کے طور پر درج ہو گیا ہے۔