چنمی امرت مہوفز عالمی کانفرنس کے افتتاحی تقریب میں وزیراعظم کے خطاب کا اصل متن
چِنْمَی امرت مہوتسف عالمی کانفرنس کے افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں روحانیت اور سماجی خدمت کے ہم آہنگی پر زور دیا۔ انہوں نے مقررین کے خیالات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے معاشرے کے لیے مثبت تبدیلی کے پیغامات کو اجاگر کیا۔
Journalism India··1 ویوز·3 منٹ پڑھیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026 کو منعقدہ چنمے امرت ماہوتسوا عالمی کانفرنس کے افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم نے تاریخی اور حوصلہ افزا خطاب کیا۔ اس موقع پر ملک و بیرون سے آنے والے دانشور، روحانی گرو اور نوجوان نسل کے نمائندوں کے سامنے وزیر اعظم نے روحانی علم کے عملی اطلاق اور سماجی خدمت کی اہمیت پر گہری باتیں کیں۔ انہوں نے اسے ایک ایسا پلیٹ فارم قرار دیا جہاں مذہبی عقیدے اور سماجی ذمہ داری کا ایک گہرا رشتہ واضح ہوتا ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں صاف الفاظ میں کہا کہ روحانیت کا مطلب صرف مندر یا گورکھل میں بند ہونا نہیں ہے، بلکہ اسے روزمرہ زندگی میں ضم کر کے معاشرے کے ہر میدان میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔ انہوں نے چنمے امرت ماہوتسوا کو عالمی سطح پر شعور پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا، جو پاکیزگی، خدمت اور تعاون کے اقدار کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ افتتاحی خطاب کے دوران وزیر اعظم نے ذکر کیا کہ اس کانفرنس کے ذریعے مختلف ثقافتی اور مذہبی پس منظر والے لوگوں کے درمیان گفتگو کا ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے، وزیر اعظم نے کانفرنس میں شامل تمام بولنے والوں کے خیالات اور تجربات کو گہرائی سے سمجھنے کی توقع کی۔ انہوں نے کہا کہ ان خیالات کو صرف سننا ہی کافی نہیں، بلکہ انہیں اپنے زندگی کے نقطہ نظر میں ڈھال کر سماجی اخلاقیات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے خاص توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ جب روحانی بصیرت اور سماجی خدمت کا ملاپ ہوتا ہے، تو معاشرے میں بدعنوانی، امتیاز اور نفرت جیسے مسائل کا مثبت حل نکلتا ہے۔ اس عمل میں باصلاحیت نوجوانوں کا کردار انتہائی مؤثر اور فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔
تقریب کے دوران، وزیر اعظم نے یہ دلیل بھی پیش کی کہ عالمی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے اندرونی سکون اور بیرونی کارروائی کا توازن ضروری ہے۔ انہوں نے چنمے امرت ماہوتسوا کو اس توازن کو برقرار رکھنے اور عالمی سطح پر امن و خوشحالی کے پیغامات کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ افتتاحی خطاب کے آخری حصے میں، انہوں نے کانفرنس کے تمام شرکاء کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اس امرت ماہوتسوا کی اقدار کو وسیع پیمانے پر پھیلائیں۔
اس خطاب نے کانفرنس کے ماحول کو مزید سنجیدہ اور حوصلہ افزا بنا دیا۔ وزیر اعظم کے الفاظ نے واضح کیا کہ یہ کانفرنس صرف ایک مذہبی تقریب نہیں، بلکہ ایک سماجی تحریک ہے جو معاشرے کے ہر سطح پر مثبت تبدیلی لانے کے لیے وقف ہے۔ اس افتتاحی تقریب نے چنمے امرت ماہوتسوا کی عالمی پہچان کو مزید مضبوط کیا ہے، جس سے مستقبل میں بھی اس طرح کی کانفرنسیں مثبت تبدیلی کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنیں گی۔