آवास اور شہری کاموں کا وزارتِ شعبہ نے صاف دہلی کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ تیار کرنے کے لیے شریک ورکشاپ کا انعقاد کیا
آवास اور شہری کاموں کے وزارت نے دہلی کی صفائی میں بہتری کے لیے ایک مربوط حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ایک خاص شراکتی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تبادلہ خیال ہوا۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026 کو، مرکزی حکومت کے وزارتِ اقامات اور شہری امور نے دہلی کی ماحولیاتی صورتحال کو بہتر بنانے اور شہر کی عمومی صفائی کو یقینی بنانے کے مقصد سے ایک اہم ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ اس مشترکہ اجلاس کا بنیادی مقصد دہلی کے لیے ایک مشترکہ اور جامع راہنما نقشہ (روڈ میپ) تیار کرنا تھا، جس میں شہری انتظام، کچرا انتظام اور عوامی صفائی سے متعلق موجودہ چیلنجز کے حل شامل ہیں۔
ورکشاپ میں دہلی کے مقامی انتظامی افسران، مرکزی وزارت کے سینئر افسران، ماحولیاتی ماہرین اور شہری معاشرتی تنظیموں کے نمائندوں کی بڑی تعداد کو شامل کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم پر اتفاق ہوا کہ دہلی کی صفائی صرف ایک محکمے کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے منظم اور یکجا کوششوں کی ضرورت ہے۔ وزارت کے افسران نے ہدایت کی کہ تازہ ترین تکنیکی مداخلتوں، سمارٹ سٹی ٹیکنالوجیز اور عوامی آگاہی کے پروگراموں کو اس راہنما نقشے میں شامل کیا جائے۔
دہلی، جو بھارت کی دارالحکومت ہے، اکثر عالمی سطح پر ہوا کی معیاری کیفیت اور ٹھوس فضلے کے انتظام کے مسائل کی وجہ سے بحث کا موضوع بنتی رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں، اس ورکشاپ کو ایک تاریخی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد دہلی کی تصویر کو دنیا کے سب سے صاف ستھرے اور پائیدار شہروں میں سے ایک کے طور پر دوبارہ قائم کرنا ہے۔ اجلاس میں بحث کی گئی کہ بغیر گرڈ فولڈ کے، دہلی کے گھنے علاقوں میں کچرے کی روک تھام اور ری سائیکلنگ کے عمل کو کیسے زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
مشترکہ ورکشاپ کے دوران، مختلف علاقائی اداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں چل رہی مسائل کو شیئر کیا، جن میں کچرا جمع کرنے کی رفتار، ڈمپنگ سائٹس کا انتظام اور شہریوں کی شرکت میں کمی شامل تھیں۔ وزارت نے وضاحت کی کہ تیار ہونے والا یہ راہنما نقشہ صرف ایک بنیادی دستاویز نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک فعال فریم ورک ہوگا، جس کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور مقامی ضروریات کے مطابق اس میں تبدیلی کی جائے گی۔
اس اجلاس کے نتائج میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ دہلی کے لیے ایک یکجا صفائی پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے ایک مخصوص نگرانی کمیٹی کا قیام کیا جائے گا۔ یہ کمیٹی پہلے مرحلے میں 90 دنوں کے اندر ایک ابتدائی کارروائی کا منصوبہ پیش کرے گی۔ وزارتِ اقامات اور شہری امور کے ترجمان نے وضاحت کی کہ دہلی کا یہ ماڈل، اگر کامیابی سے نافذ ہوتا ہے، تو یہ ملک کے دیگر بڑے میٹروپولیٹن شہروں جیسے ممبئی، بنگلورو اور چنائی کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال بن سکتا ہے۔
آخر میں، تمام شرکاء اس بات پر متفق ہوئے کہ دہلی کی صفائی کے لیے ایک طویل اور مشکل سفر کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں شفافیت اور جوابدہی کی حس سب سے اہم کردار ادا کرے گی۔ آنے والے ہفتوں میں، اس ورکشاپ کی بنیاد پر تیار کردہ ابتدائی منصوبے کو عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، تاکہ شہری بھی اس عمل میں فعال طور پر حصہ لے سکیں۔