بھارت کی صدر نے لیختینشتائن کے موروثی شہزادہ الوائس اور شہزادی سوفی کی میزبانی کی
بھارت کے صدر نے لیختینشتائن کے وراثتی شہزادہ ایلوئس اور شہزادی سופی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون پر بات چیت ہوئی۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
نئی دہلی، 28 اکتوبر 2026 — بھارتی سفارتی تاریخ میں ایک اہم لمحہ درج ہوا جب ملک کے صدر نے لیختینشتائن کے وراثتی شہزادے الوائس اور شہزادی سופی کی اعلیٰ سطحی میزبانی کی۔ یہ ملاقات صدر محل کے مرکزی ہال میں منعقد کی گئی، جہاں دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت کی۔
بھارت اور لیختینشتائن کے درمیان تاریخی دوستی کے تحت یہ ملاقات خاص طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے، جو غیر جانب داری اور بہترین تعلقات کی علامت ہے۔ ملاقات کے دوران، بھارتی صدر نے لیختینشتائن کے شاہی خاندان کے لیے اپنا خوش آمدید اظہار کیا اور شہزادے الوائس اور شہزادی سופی کو بھارتی ثقافت اور روایات کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس موقع پر بھارتی جانب سے شہزادی جوڑے کو ادارہ جاتی تحائف پیش کیے گئے، جن میں بھارتی فن اور ہاتھ سے بنے ہوئے مصنوعات کی جھلک نظر آنے والی اشیاء شامل تھیں۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے معاشی تعاون، تعلیم، صحت اور ماحولیات جیسے شعبوں میں مشترکہ اقدامات پر گفتگو کی۔ لیختینشتائن، جو دنیا کا سب سے چھوٹا آزاد ملک ہے، اکثر اپنے منفرد سفارتی ماڈل اور غیر جانب دارانہ کردار کے لیے جانا جاتا ہے۔ بھارتی سفیر نے اس موقع پر کہا کہ لیختینشتائن کے شاہی خاندان کے ساتھ یہ باوقار ملاقات دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد اور احترام کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ شہزادے الوائس نے بھی بھارتی ثقافت کی تنوع اور بھارت کے ترقیاتی ماڈل کی تعریف کی، ساتھ ہی مستقبل میں ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
یہ ملاقات جنرل اسمبلی اور دیگر بین الاقوامی فورم کے حوالے سے بھی اہم ہے، جہاں چھوٹے ممالک بھی اپنی آواز اٹھاتے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق، اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کے حوالے سے ایک تفہیم کی یادداشت پر دستخط کرنے کی امکان کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ شہزادی سופی نے بھارتی کھانے پینے اور موسیقی کے بارے میں خاص دلچسپی دکھائی، جبکہ شہزادے الوائس نے بھارت کے ڈیجیٹل تبدیلی اور تکنیکی کامیابیوں کے بارے میں سوالات پوچھے۔
صدر کے دفتر کے جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات بھارتی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی اصول کو دوبارہ زندہ کرتی ہے، جو چھوٹے اور بڑے تمام ممالک کے ساتھ مساوات اور احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم رکھنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس تاریخی ملاقات نے نہ صرف سفارتی تعلقات کو مضبوط کیا، بلکہ ثقافتی سمجھداری کو بھی گہرا کیا۔ اب توجہ اس بات کی طرف ہے کہ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان نئے تعاون کے دروازے کھلेंگے یا نہیں، اور ثقافتی تبادلے کے ذریعے عوامی سطح پر کتنی قریبی پیدا ہوگی۔ یہ واقعہ بھارتی سفارتی تاریخ میں ایک روشن سطر کے طور پر درج ہوگا، جو تنوع اور آسانی پر یقین رکھنے والے بھارتی نقطہ نظر کو پیش کرتا ہے۔