کوریا کے دورے کے دوران شری سربانند سونوال کوریا کے صنعتی حلقے کے سامنے بھارت میں جہاز سازی کے مواقع پیش کریں گے
سرینے سروانند سونوال کوئیا دورے کے دوران بھارتی جہاز سازی کی صلاحیتوں اور سرمایہ کاری کے مواقع کو کوریائی صنعتی حلقوں کے سامنے رکھیں گے۔
Journalism India··1 ویوز·3 منٹ پڑھیں
بھارت اور کوریا کے درمیان دوطرفہ تجارت اور صنعتی تعاون کو نئی سمت دینے کے مقصد سے، ساربانند سونوال کا کوریا کا دورہ خاص اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ اس اہم سفر کے دوران، ساربانند سونوال کوریائی صنعتی حلقوں کے نمائندوں کے سامنے بھارت میں جہاز سازی (Shipbuilding) شعبے سے منسلک وسیع مواقع کا تعارف کریں گے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان حکمتِ عملی کی شراکت داری کو گہرا کرنے اور بحری شعبے میں بھارت کے کردار کو مستحکم کرنے کی طرف بڑا قدم ہے۔
ساربانند سونوال کا ماننا ہے کہ کوریا جہاز سازی کی ٹیکنالوجی اور بحری انجینئرنگ کے شعبے میں ایک پیشرو ملک ہے، جبکہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جہاز سازی کا مرکز بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس دورے کے ذریعے ان کا مقصد کوریائی کمپنیوں کو بھارت کے جہاز سازی کے صنعت کے پھیلنے والے بازار، جدید خشک ڈاکس (Dry Docks) اور سرکاری حوصلہ افزائی کی پالیسیوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرنا ہے۔ وہ یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ اس ملاقات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ انتظامیہ (Joint Ventures) اور ٹیکنالوجی منتقلی (Technology Transfer) کے نئے رشتے قائم کیے جا سکیں گے۔
خاص طور پر، بھارتی حکومت کی 'میک ان انڈیا' اور 'نیرماناتمی بھارت' کی پالیسیوں کے تحت جہاز سازی کے شعبے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کوریائی کمپنیوں کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ بھارت میں اپنے سرمایہ کاری کو تنوع دیں۔ ساربانند سونوال نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور بڑھتی ہوئی بحری تجارتی سرگرمیاں جہاز سازی، دیکھ بھال اور مرمت (MRO) کی خدمات کی طلب کو تیزی سے بڑھا رہی ہیں۔ کوریائی صنعت کاروں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ بھارت نہ صرف ایک بڑا صارفین کا بازار ہے، بلکہ ایک ترقی پذیر صنعتی مستقبل بھی ہے۔
اس ملاقات میں جہاز سازی کی جدید ٹیکنالوجیوں، گرین میریٹائم ٹیکنالوجیز (Green Maritime Technologies) اور ڈیجیٹل بحری حل پر بھی گہری بحث کا امکان ہے۔ کوریائی کمپنیاں اپنی جدید ترین ڈیزائن اور انجینئرنگ کی مہارت کے لیے مشہور ہیں، اور بھارت ان ٹیکنالوجیوں کو مقامی سطح پر نافذ کر کے اپنے جہاز سازی کے صلاحیتوں کو عالمی معیارات تک لے جانا چاہتا ہے۔ اس تعاون سے نہ صرف بھارت کے جہاز سازی کے بندرگاہوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا، بلکہ لاکھوں نئے روزگار کے تخلیق کا دائرہ بھی کھل جائے گا۔
ساربانند سونوال کے اس دورے سے بھارت-کوریا تعلقات کو نیا پہلو ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ یہ سفر صرف ایک تجارتی ملاقات نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان حکمتِ عملی کے اعتماد اور صنعتی یکجہتی کو مستحکم کرنے کے عمل کا حصہ ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا نے اس واقعے کو شدید دلچسپی کے ساتھ دیکھا ہے، کیونکہ یہ آنے والے برسوں میں بحری شعبے میں بھارت کی واپسی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ کوریائی صنعتی حلقوں کے ساتھ اس گفتگو سے دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے فائدہ مند نتائج نکلنے کے امکانات مضبوط ہو گئے ہیں۔