دفاعی وزیر نے 13ویں ایشیٰن دفاعی وزرائی اجلاس پلس کے علاوہ سنگاپور کے دفاعی وزیر کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کیے
رکیا وزیر نے 13ویں آسیان دفاعی وزراء کی میٹنگ‑پلس کے دوران سنگاپور کے دفاعی وزیر کے ساتھ گہرا دوطرفہ تبادلہ خیال کیا، جس میں علاقائی سلامتی، سائبر دفاع اور مشترکہ تعاون کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔
Journalism India··0 ویوز·4 منٹ پڑھیں
رکنِ دفاع نریندر مودی نے 13ویں آسیان رکنِ دفاع کے وزرائی اجلاس کے دوران سنگاپور کے وزیرِ دفاع لوک شاؤ کے ساتھ ایک اہم دوطرفہ مذاکرات کیے۔ یہ مذاکرات اس سال 29 اکتوبر کو نئی دہلی میں منعقدہ بین الاقوامی پلیٹ فارم کے دوران ہوئے، جب دونوں ممالک کے سربراہانِ دفاع نے علاقائی سلامتی، سائبر دفاع اور باہمی تعاون کے موضوعات پر گہری بحث کی۔
اجلاس کے دوران، نریندر مودی نے سنگاپور کے ساتھ حکمتِ عملی کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور سنگاپور کا مشترکہ مقصد ہے "ہر قسم کے خطرات کے خلاف متحد رہنا" اور "علاقائی استحکام کو یقینی بنانا"۔ اس سیاق و سباق میں، دونوں نے ایک دوسرے کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مشترکہ مشقیں، خفیہ معلومات کا تبادلہ اور سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
سنگاپور کے وزیرِ دفاع لوک شاؤ نے بھی بتایا کہ "سنگاپور بھارت کے ساتھ دفاعی شعبے میں گہری شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے" اور "ہم دونوں ممالک کے درمیان دفاعی مذاکرات کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔" شاؤ نے ذکر کیا کہ سنگاپور نے حال ہی میں اپنی بحری سلامتی اور سائبر دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنایا ہے اور وہ بھارت کے ساتھ ان شعبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
اجلاس کے دوران، دونوں وزرائے دفاع نے مشترکہ مشقیں اور تربیتی پروگراموں کے منصوبوں پر بحث کی۔ نریندر مودی نے بتایا کہ بھارت نے سنگاپور کے ساتھ مشترکہ مشقیں "محفوظ بحری راستے" اور "سائبر سیکیورٹی" پر مرکوز کرنے کا پیشکش کیا ہے۔ شاؤ نے اس پیشکش کا خیرمقدم کیا اور بتایا کہ سنگاپور بھی اسی سمت میں آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔
اس کے علاوہ، دونوں نے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی، بحری چوری اور سائبر جرائم جیسے چیلنجز کے خلاف متحد ردعمل کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ تحقیقات کو مضبوط کرنا" علاقائی سلامتی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیرِ دفاع نریندر مودی نے اس دوطرفہ مذاکرات کو "بھارت-سنگاپور دفاعی تعاون کا نیا باب" کہا۔ انہوں نے بتایا کہ "اس تعاون سے دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتیں مزید مضبوط ہوں گی" اور "علاقائی استحکام کو فروغ ملے گا۔"
سنگاپور کے وزیرِ دفاع لوک شاؤ نے بھی اسی احساس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "سنگاپور اور بھارت دونوں اپنے اپنے علاقے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں" اور "ہمارے درمیان تعاون سے علاقائی سلامتی کو نئی سمت ملے گی۔"
اس اجلاس کے بعد، دونوں ممالک کے وزرائے دفاع نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے "علاقائی سلامتی، سائبر دفاع اور مشترکہ مشقیں" کی اہمیت پر زور دیا۔ اس بیان کے مطابق، بھارت اور سنگاپور "سلامتی کے شعبے میں متحد رہ کر عالمی چیلنجز کا سامنا کریں گے" اور "سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں مشترکہ کوششوں سے دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتیں بہتر ہوں گی۔"
اس دوطرفہ مذاکرات کے بعد، بھارت اور سنگاپور کے درمیان دفاعی شعبے میں گہرے تعاون کے نئے منصوبے سامنے آئے ہیں۔ دونوں ممالک کے وزرائے دفاع نے مل کر ایک کارروائی کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں مشترکہ مشقیں، سائبر دفاع، خفیہ معلومات کا تبادلہ اور بحری سلامتی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
آخر میں، وزیرِ دفاع نریندر مودی اور سنگاپور کے وزیرِ دفاع لوک شاؤ نے اس بات کو واضح کیا کہ "بھارت اور سنگاپور کی دفاعی شراکت داری" علاقائی استحکام اور سلامتی کو بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس اجلاس سے یہ واضح ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے پہلو کھلیں گے، جو علاقائی سلامتی اور عالمی امن کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔