کسانوں کے مفاد میں بڑا فیصلہ: خریف 2026‑27 کے لیے 5547.99 کروڑ روپے کی پیداوار خرید کو مرکزی وزیر شری شیوراج سنگھ چوہان کی منظوری۔
مرکزی وزیر شی شیو راج سنگھ چوہان نے خریف 2026-27 کے لیے 5547.99 کروڑ روپے کی پیداوار خرید کو اپنی منظوری دے دی ہے، جو کسانوں کے مفادات کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
مرکزی وزیر شری شیوراج سنگھ چوہان کی جانب سے حال ہی میں لیا گیا ایک تاریخی فیصلہ بھارتی زرعی شعبے کے لیے بے حد روشن مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وزیر جی نے خریف 2026‑27 کے موسم کے لیے کل 5547.99 کروڑ روپے کی پیداوار خریداری کی منصوبہ بندی کو اپنی حتمی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ریاست کے کسانوں کو معاشی معاونت فراہم کرنے کا اشارہ ہے، بلکہ یہ ان کے مفادات کی حفاظت کے لیے حکومت کی عہد کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ زرعی شعبے میں بڑھتی ہوئی لاگت اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے درمیان، یہ مالیاتی مختص کسانوں کے لیے ایک راحت بخش پیغام ہے۔
شری شیوراج سنگھ چوہان نے اس منظوری سے پہلے متعلقہ محکموں اور تکنیکی حکام کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی تھی، جس میں یہ یقین دہانی کی گئی کہ مقررہ رقم مؤثر طریقے سے استعمال کی جائے اور ہر گندم پیدا کرنے والا کسان وقت پر مناسب قیمت (MSP) حاصل کرے۔ خریف 2026‑27 کا یہ بجٹ مختص گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کافی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پیداوار خریداری اداروں (FPOs) اور ریاستی حکومتوں کے پاس کافی مالی وسائل ہوں گے تاکہ وہ کسانوں سے براہ راست خریداری کر سکیں۔
کسانوں کے مفادات میں یہ بڑا فیصلہ لیتے ہوئے، وزیر جی نے زور دیا ہے کہ حکومت کا مقصد صرف خریداری تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ خریدی گئی پیداوار کی ادائیگی کا عمل تیزی سے ہو اور کسانوں کے کھاتوں میں رقم بغیر کسی تاخیر کے جمع ہو۔ 5547.99 کروڑ روپے کی یہ رقم ریاست کے زرعی پیداوار کے معیار اور متوقع پیداوار کے مطابق طے کی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مالیاتی پیکج زرعی آلات کی قیمت میں اضافے کو متوازن کرنے اور کسانوں کو خود انحصار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ منظوری مقامی سطح پر بھی گونج رہی ہے، جہاں کسان تنظیموں اور زرعی ماہرین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خریف 2026‑27 کے لیے ایسی بڑی رقم کا مختص اعتماد کا اشارہ ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں کسانوں کی آواز سن رہی ہیں۔ تاہم، اس رقم کے مؤثر نفاذ کے لیے زمینی سطح پر شفافیت اور کارکردگی کی ضرورت ہوگی، تاکہ ہر کسان اس منصوبے سے فائدہ اٹھا سکے۔ شری شیوراج سنگھ چوہان کی اس منظوری نے زرعی شعبے میں نئی امید جگائی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ کسانوں کے مفادات کی حفاظت حکومت کی ترجیح بنی رہے گی۔ آنے والے دنوں میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ 5547.99 کروڑ روپے کی یہ پیداوار خریداری منصوبہ کیسے نافذ ہوتی ہے اور یہ کسانوں کی آمدنی کو کیسے بڑھاتی ہے۔