مرکزی وزیر نوجوانوں کے پروگرام اور کھیل ڈاکٹر منسوخ مانڈویا نے گجرات میں 'ترقی یافتہ بھارت نوجوانیاتی گفتگو' کے دوران نوجوانوں کو 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی تصورات کی مشعل بردار قرار دیا۔
کینٹرل نوجوان پروگرام اور کھیلوں کے وزیر ڈاکٹر منصوکھ ماندوییا نے گجرات میں منعقد شدہ 'توسیع بھارت نوجوان گفتگو' میں حصہ لیتے ہوئے نوجوانوں کو 2047 تک ترقی یافتہ بھارت بننے کے عمل میں سب سے اہم بھ...
Journalism India··1 ویوز·3 منٹ پڑھیں
17 اکتوبر 2026 کو گجرات کے ماحول میں ایک تاریخی اور حوصلہ افزا منظر دیکھنے کو ملا، جس میں مرکزی وزیر نوجوانوں کے پروگرام اور کھیل ڈاکٹر منسوخ منڈویا نے ملک کے نوجوانوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر 'ترقی یافتہ بھارت نوجوانیاتی گفتگو' کے پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد آنے والے دہائیوں میں بھارت کی ترقی کی سمت طے کرنا تھا۔ وزیر صاحب نے اپنے خطاب کے آغاز ہی میں یہ واضح کیا کہ سال 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی تجویز کو حقیقت میں بدلنے کا کام کسی ایک شخص یا ادارے کا نہیں، بلکہ پوری نوجوان نسل کی اجتماعی کوششوں پر منحصر ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو اس عظیم خواب کے مشعل بردار قرار دیا، جس کا مطلب ہے کہ آنے والے 21 سال تک ملک کی ترقی کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہوگی۔
ڈاکٹر منسوخ منڈویا نے دلیل دی کہ ماضی کے کچھ دہائیوں کے دوران بھارت میں بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن 2047 کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے انسانی وسائل کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے گجرات کے نوجوانوں کو خاص طور پر چیلنج دیا کہ وہ نہ صرف ملک کی ترقی میں مدد کریں، بلکہ عالمی سطح پر بھارتی اقدار اور نئے طریقوں کو آگے بڑھانے کے لیے آگے آئیں۔ وزیر صاحب نے ذکر کیا کہ نوجوانیاتی گفتگو کا یہ اہتمام صرف ایک اجلاس نہیں، بلکہ یہ ایک قدم ہے جو نوجوانوں کو ملک کی سیاسی، معاشی اور سماجی حکمت عملیوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
پروگرام کے دوران منبر پر بیٹھے نوجوان نمائندوں نے بھی اپنی رائے دی اور انہوں نے بین الاقوامی شعبوں، جیسے کہ زراعت، صحت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحفظ، میں نئی سمتوں کو اپناتے ہوئے بھارت کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کے منصوبے پیش کیے۔ ڈاکٹر منڈویا نے ان تجاویز پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر ممکن وسائل اور پالیسی کی حمایت فراہم کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ 2047 کے بھارت میں ہر نوجوان ایک ماہر، ایک سازندہ اور ایک رہنما ہوگا، نہ کہ صرف ایک مزدور۔
اس 'ترقی یافتہ بھارت نوجوانیاتی گفتگو' نے گجرات میں ایک نئے اندازِ فکر کا نصاب بن کر سامنے آئی ہے۔ وزیر صاحب نے اختتامیہ میں نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں بہتری لانے کے لیے چھوٹے چھوٹے تجربات شروع کریں، کیونکہ بڑی تبدیلیاں چھوٹی چھوٹی ابتداؤں سے ہی آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نوجوان معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ کر انہیں بیدار نہیں کرتے، تب تک ترقی یافتہ بھارت کی تجویز ادھوری رہے گی۔ اس طرح، 2026 کے اس پروگرام نے 2047 کے بھارت کے لیے ایک واضح رہنمائی فراہم کی ہے، جہاں نوجوان ہی ملک کی ترقی کی مشعل کو آگے بڑھانے والے ہیں۔