دلی میں ایکیو آئی 382 درج ہونے کے بعد سی اے یو ایم نے دلی-این سی آر میں جی آر اے پی کا مرحلہ-III فوری اثر سے نافذ کیا
دہلی میں ہوا کی معیاریاتی اشاریہ (ایکویائی) کے 382 کی سطح تک پہنچنے کے بعد، سی ایم اے نے دہلی این سی آر میں گرافیکل ریسپانس ایکشن پلان (جی آر اے پی) کا تیسرا مرحلہ فوری اثر سے نافذ کر دیا ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
دِلِی-این سی آر میں مسلسل خراب ہوتی ہوا کی معیار اور بڑھتی ہوئی آلودگی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی اے یو ایم) نے آج، ہفتہ کو ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ سی اے یو ایم نے دِلِی اور آس پاس کے علاقوں میں ہوا کی معیار کا انڈیکس (اے سی آئی) کے سطح ۳۸۲ درج ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے، جی آر اے پی (گرافیکل ریسپانس ایکشن پلان) کا مرحلہ-III فوری اثر سے نافذ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ قدم آلودگی کے سطح کو کنٹرول کرنے اور شہریوں کے صحت کو محفوظ رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
سی اے یو ایم کے اس حکم کے تحت، دِلِی-این سی آر کے مختلف ضلوں میں مقرر کردہ پابندیوں کو شروع کیا گیا ہے۔ مرحلہ-III میں شامل اہم کارروائیوں میں تعمیراتی سائٹس پر کام بند کرنا، کھلے میں کچرا جلانے پر پابندی لگانا، اور مقررہ زرعی فصلوں کے باقیات کو جلانے پر سخت روک لگانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، دِلِی اور این سی آر کے کچھ حصوں میں اسکولوں کو بند کرنے یا آن لائن کلاسز شروع کرنے کا ہدایت بھی دیا گیا ہے، تاکہ بچوں کا صحت متاثر نہ ہو۔ گاڑی چلانے والوں سے توقع ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی باقاعدہ دیکھ بھال کریں اور جہاں ممکن ہو، عوامی نقل و حمل کا استعمال کریں۔
انتظامیہ کے ذریعے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جی آر اے پی کے تحت مقرر کردہ سرگرمیوں میں کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ اور آلودگی کنٹرول افسران کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ مختلف ضلوں میں چھاپے اور کارروائیوں کے دوران سخت قوانین کا اطلاق یقینی بنائیں۔ آلودگی کے سطح کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے گا اور اگر اے سی آئی کا سطح اور بڑھتا ہے، تو مزید اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔
دِلِی-این سی آر میں آلودگی کی یہ صورتحال بنیادی طور پر موسمی تبدیلی، دھند، اور مقامی ذرائع جیسے تعمیراتی سرگرمیوں، گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں، اور زرعی علاقوں سے آنے والی آلودگی کے باعث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جی آر اے پی کا مرحلہ-III نافذ ہونے سے ہوا کی معیار میں کچھ حد تک بہتری ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے تمام فریقین کا تعاون ضروری ہے۔ شہریوں سے توقع ہے کہ وہ بھی اپنے سطح پر آلودگی کم کرنے کے لیے تعاون دیں، جیسے کہ توانائی کی بچت کرنا اور جہاں ممکن ہو، گھر پر ہی کام کرنا۔
سی اے یو ایم نے یہ بھی صاف کیا ہے کہ یہ اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں اور آلودگی کے سطح میں بہتری ہوتے ہی یہ پابندیاں ہٹا دی جا سکتی ہیں۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں عوام کے صحت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ دِلِی-این سی آر کے تمام ضلوں کے انتظامی افسران کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ جی آر اے پی کے مرحلہ-III کے نفاذ کی نگرانی کریں اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے۔ یہ پہل دِلِی-این سی آر میں ہوا کو صاف رکھنے اور شہریوں کو ایک صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔