سکھنا آرڈھمٹی (چنڈی گڑھ) اور سوج جھیل (اتر پردیش) کو فہرست میں شامل کرنے سے بھارت کے رامسر مقامات کی تعداد 103 ہو گئی۔
بھارت میں رامسار مقامات کی تعداد 103 تک پہنچ گئی ہے، جس میں سکھنا گلیش (چندی گڑھ) اور ساؤج جھیل (اتر پردیش) کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ قدم ملک کے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پرندوں کے ہجرت کے انتظام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
بھارت میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔ حال ہی میں، چنڈی گڑھ کی دارالحکومت کے دل میں واقع سکھنا گھٹیا (سکھنا ہمیڈ) اور اتر پردیش کی مشہور ساؤج جھیل کو 'رامسار مقامات' (بین الاقوامی اہمیت کے گھٹیا) کی سرکاری فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس تاریخی قدم کے ساتھ، بھارت کے کل رامسار مقامات کی تعداد 103 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ملک کے ماحولیاتی ذمہ داریوں کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ اندرونی پانی کے ذخائر کے تحفظ کے لیے بھارت کی پابندی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
سکھنا گھٹیا، جسے اکثر 'کھو' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، چنڈی گڑھ کی پہچان ہے۔ یہ نہ صرف ایک خوبصورت منظر فراہم کرتا ہے، بلکہ تحفظ شدہ علاقے کے طور پر بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس علاقے میں مختلف اقسام کے پرندوں، پانی کی مخلوقات اور نباتات کی بھرپور موجودگی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح، اتر پردیش کی ساؤج جھیل، جو بھارت کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں سے ایک ہے، اپنے وسیع رقبے اور حیاتیاتی تنوع کی وجہ سے ایک انتہائی اہم ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے۔ ساؤج جھیل ہجرت کرنے والے پرندوں کے لیے ایک اہم ٹھکانہ ہے، خاص طور پر سردیوں کے موسم میں جب ہزاروں پرندے اس علاقے میں آتے ہیں۔
رامسار کنونشن، جس کا نام تاجکستان کے شہر رامسار پر رکھا گیا ہے، اندرونی پانی کے ذخائر کے تحفظ اور منطقی استعمال کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک کنونشن ہے۔ کسی مقام کو اس فہرست میں شامل ہونے کے لیے، اسے مخصوص ماحولیاتی معیارات کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، جس میں نایاب یا لاپتہ پرندوں کی اقسام کی موجودگی، پانی کے وسائل کا انتظام، اور مقامی برادریوں کی زندگی پر اس کا اثر شامل ہوتا ہے۔ بھارت کی جانب سے ان نئے مقامات کو فہرست میں شامل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک اپنے قدرتی وسائل کے انتظام میں عالمی معیارات کو اپنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ قدم مقامی سطح پر بھی گہرے اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ سکھنا اور ساؤج جھیل کے گرد و نواح کے علاقوں میں سیاحت، خاص طور پر پرندوں کے شائقین اور فطرت کے شائقین کے درمیان، میں نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی، ان مقامات کے تحفظ کے لیے مقامی انتظامیہ اور عوام کو مل کر کام کرنے کا موقع ملے گا، جس سے آلودگی کے کنٹرول اور پانی کی معیاری کیفیت میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ ان دونوں مقامات کے انتخاب کے پیچھے بنیادی وجہ ان کی مخصوص ماحولیاتی اہمیت اور ہجرت کرنے والے پرندوں کے لیے جگہ بنانا ہے۔
ماہرین کے خیال میں ان نئے رامسار مقامات کی شناخت کے ساتھ، بھارت کو بین الاقوامی برادری میں ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں مزید پہچان ملے گی۔ یہ کامیابی ملک کے پانی کے وسائل کی حفاظت اور حیاتیاتی تنوع کے مستقبل کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ آنے والے برسوں میں، ان مقامات کے انتظام اور تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی نگرانی کر کے یقینی بنایا جائے گا کہ یہ قدرتی خزانے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہیں۔