پرائمی منسٹر نے مردوں کی لمبی چھلانگ مقابلے میں ایشیائی کھیلوں میں تمغہ جیتنے پر مورلی شیروشنکر کو مبارکباد دی
صدر اعظم نے ایشیائی کھیلوں میں مردوں کی لمبی چھلانگ میں مِرلی شریشَنکر کو پیڈل جیتنے کی مبارکباد دی، جسے بھارتی ایتھلیٹکس کے لیے ایک امید افزا کارکردگی سمجھا گیا۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
بھارتی ایتھلیٹکس کے شعبے میں ایک نئے دور کی شروعات کرتے ہوئے، وزیراعظم نے حال ہی میں ایشیائی کھیلوں میں مردوں کے لمبے کود (Long Jump) مقابلے میں تمغہ حاصل کرنے والے نوجوان کھلاڑی موریلی شری شنکر کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف موریلی شری شنکر کے ذاتی محنت کا نتیجہ ہے، بلکہ یہ بھارتی کھیلوں کے دائرے کے لیے ایک حوصلہ افزا لمحہ بھی ہے۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں موریلی شری شنکر کی سخت محنت، مسلسل مشق اور اس عالمی منظر نامے پر ملک کی شہرت روشن کرنے کے لیے ان کی بہادری کی تعریف کی۔
ایشیائی کھیلوں جیسے معتبر مواقع پر تمغہ جیتنا آسان کارنامہ نہیں ہوتا، خاص طور پر لمبے کود جیسے ایسے مقابلوں میں جو تکنیکی اور جسمانی مہارت پر منحصر ہوتے ہیں۔ موریلی شری شنکر نے اپنے اس مظاہرے کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی ایتھلیٹکس ایک نئی بلندی پر جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے ذکر کیا کہ موریلی شری شنکر کا یہ مظاہرہ ملک کے نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنے گا، جو انہیں سخت محنت کر کے اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے حوصلہ دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس طرح کے مہارت والے کھلاڑیوں کو ہر ممکنہ مدد دینے کے لیے پابند ہے، تاکہ وہ آنے والے اولمپکس اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں بھی شاندار کارکردگی دکھا سکیں۔
موریلی شری شنکر نے اس تمغے کے ساتھ ہی نہ صرف اپنی مہارت کو ثابت کیا ہے، بلکہ بھارتی تماشائین کے دلوں میں گہری جھلکی بھی چھوڑی ہے۔ ان کی اس کامیابی کو ملک کے مختلف علاقوں میں جشن کے ماحول میں منایا گیا۔ کھیل کے ماہرین اور مداحوں نے موریلی شری شنکر کی تکنیکی مہارت اور ذہنی مضبوطی کی بے تحاشا تعریف کی ہے۔ اس مظاہرے نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بھارتی ایتھلیٹکس اب صرف کمزور شعبہ نہیں رہا، بلکہ یہ اب ایک مقابلہ جاتی شعبہ بن گیا ہے جہاں بھارت ایک مقابلہ جاتی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔
وزیراعظم کی دی گئی اس مبارکباد نے موریلی شری شنکر کے لیے مزید حوصلہ بڑھا دیا ہے۔ یہ پیغام کھلاڑی کے لیے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ملک کے سب سے اعلیٰ سطح سے ان کی محنت کو پہچانا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں، موریلی شری شنکر سے توقع ہے کہ وہ اسی سطح کی کارکردگی برقرار رکھیں اور بین الاقوامی منظر نامے پر بھارت کے لیے مزید بڑے تمغے جیتیں۔ بھارتی ایتھلیٹکس فیڈریشن اور کھیلوں کے وزارتِ عظمیٰ بھی اس طرح کے مہارت والے نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کرنے کے لیے خصوصی تربیتی پروگراموں اور وسائل کی فراہمی میں مصروف ہیں۔
اس واقعے نے بھارتی کھیلوں کے معاشرے میں ایک مثبت لہر پیدا کی ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر صحیح سمت میں محنت کی جائے، تو بھارتی کھلاڑی کسی بھی کھیل میں عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ موریلی شری شنکر کا یہ مظاہرہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشنی بنے گا، جو انہیں اس بات میں مدد دے گی کہ بھارتی ایتھلیٹکس کے مستقبل کا نقشہ اب مزید روشن ہو رہا ہے۔ وزیراعظم کی یہ بات ان کی پابندی کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ بھارتی کھلاڑیوں کے ہر کامیاب اقدام کے ساتھ کھڑے رہنا چاہتے ہیں اور ملک کے کھیلوں کے ارتقاء کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں۔