ای ایم ای ڈی ای نے تمام سی پی ایس ای کو اپرنٹس شپ سے متعلقہ کاروباری تعلق میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ نتائج اور شمولیت پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔
ایم ایس ڈی ای نے تمام عوامی شعبے کے اداروں (سی پی ایس ای) سے اپرنٹس شپ کے عمل کو تیز کرنے اور نوکری کے نتائج اور شمولیتی کاروباری نظام پر خاص توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کے لیے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
موجودہ معاشی منظرِ نامہ میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے اپرنٹس شپ پروگرام ایک انتہائی مؤثر ذریعہ بن رہا ہے۔ اسی نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے، ایم ایس ڈی ای (MSDE) نے حالیہ اوقات میں تمام سی پی ایس ای (سرکاری شعبے کے اداروں) کو اپیل کی ہے کہ وہ اپرنٹس شپ سے متعلقہ شراکت داری میں نمایاں اضافہ کریں۔ یہ اقدام نہ صرف کارگر طبقے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بلکہ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تجربے اور مہارتوں کی ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔
ایم ایس ڈی ای کی اس اپیل میں بنیادی طور پر دو پہلوؤں پر خاص زور دیا گیا ہے۔ پہلا پہلو 'نتائج پر توجہ مرکوز کرنا' ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سی پی ایس ای کو اپنے اپرنٹس شپ پروگرامز کی معیاری نوعیت اور اثر و رسوخ کا اندازہ لگانا چاہیے۔ صرف عددی اہداف حاصل کرنے کے بجائے، یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ٹرینیز واقعی کس طرح مؤثر طریقے سے اپنے کام کے طریقہ کار کو بہتر بنا رہے ہیں اور ادارے کی پیداواری صلاحیت میں کیسے حصہ ڈال رہے ہیں۔ اس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ اپرنٹس شپ صرف ایک علامتی کام نہ ہو بلکہ ایک مفید اور نتائج پر مبنی عمل بن جائے۔
دوسرا اور اتنا ہی اہم اقدام 'شمولیت' (Inclusion) پر مرکوز ہے۔ ایم ایس ڈی ای نے سی پی ایس ای سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپرنٹس شپ منصوبوں میں تنوع اور شمولیت پر مبنی کاروباری نظام کو فروغ دیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرینیز کی انتخاب اور تربیت کے عمل میں تمام برادریوں، طبقوں اور پس منظر کے نوجوانوں کو مساوی مواقع دیے جائیں۔ شمولیت پر مبنی طریقوں کو اپنانے سے ادارے نہ صرف سماجی انصاف کو فروغ دیتے ہیں بلکہ متضاد نقطہ نظر کے ذریعے اپنے دفتر کے ماحول کو بھی مزید بہتر بناتے ہیں۔
یہ اقدام ملک کی روزگار پالیسی کی توسیع سے ہم آہنگ ہے، جہاں مہارتوں کی ترقی کو معاشی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ سی پی ایس ای، اپنے بڑے پیمانے اور ادارتی ڈھانچے کی وجہ سے، یہاں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جب سرکاری شعبے کے ادارے اپرنٹس شپ میں اضافہ کرتے ہیں اور شمولیت پر مبنی معیارات اپناتے ہیں، تو اس کا اثر نجی شعبے پر بھی گہرا پڑتا ہے، جس سے پوری معیشت میں ایک مثبت اثر پیدا ہوتا ہے۔
اپرنٹس شپ کا ماڈل 'تعلیم اور تجربے' کے ملاپ کو ظاہر کرتا ہے۔ نوجوان کو حقیقی کام کی جگہ پر کام کر کے سیکھنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ ادارے کو تربیت یافتہ اور وفادار کارکنوں کی دستیابی ہوتی ہے۔ ایم ایس ڈی ای کی اس اپیل کا مقصد اس دوطرفہ فائدے کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
سی پی ایس ای کو اس سمت میں آگاہی بڑھانی ہوگی تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس منصوبے سے جڑ سکیں۔ نتائج پر مرکوز نقطہ نظر اور شمولیت پر مبنی پالیسیوں کو اپنانے سے، یہ ادارے نہ صرف اپنے ادارتی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک مثالی نمونہ پیش کریں گے۔ آخرکار، یہ اپیل ایک دعوت ہے، جس میں ہر سرکاری ادارے کو اپنے سماجی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کو ایک ساتھ بڑھانے کا موقع دیا گیا ہے۔