شری جی. किशن ریڈی نے معدنیاتی تحقیق کے کاموں کو تیز کرنے اور مرکز-ریاستی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی اپیل کی
ش्री جی کشن رڈی نے معدنیات کی تلاش کے کاموں میں تیزی لانے اور مرکز اور ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کی اپیل کی
ش्री جی کشن رڈی نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے معدنیات...
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
ش्री جی کشن رڈی نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے معدنیات کے دریافتی کاموں میں نمایاں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرنے کی اپیل کی ہے۔ شری رڈی کا ماننا ہے کہ قومی سطح پر معدنی وسائل کے انتظام اور استعمال کے لیے ایک یکجا حکمت عملی اپنانا انتہائی ضروری ہے، تاکہ معاشی ترقی کے اہداف کو مؤثر طریقے سے حاصل کیا جا سکے۔
تفصیلی تجزیے کے مطابق، شری جی کشن رڈی نے دلیل دی کہ موجودہ وقت میں معدنیات کے دریافتی عمل میں تاخیر اور انتظامی رکاوٹیں صنعت کے ترقی کو روک رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ مرکز اور ریاست دونوں سطحوں پر پالیسی فریم ورک کو ایڈجسٹ کیا جائے تاکہ اجازت کے عمل کو آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکز اور ریاست کی ہم آہنگی میں بہتری سے نہ صرف انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہوگا، بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا، جس سے ملک کے مختلف علاقوں میں نئے کان کنی کے یونٹس کی تنصیب کو حوصلہ افزائی ملے گی۔
شری رڈی نے خاص طور پر ان ریاستوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جہاں معدنی وسائل کی وفور ہے، لیکن انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان وسائل کا مکمل استعمال ممکن نہیں ہو پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ریاستوں کی مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مرکزی حکومت کو لچکدار پالیسیاں بنانی ہوں گی۔ اس تجویز میں یہ بھی شامل ہے کہ تکنیکی ماہرین اور پالیسی سازوں کے درمیان باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں، تاکہ دریافتی تکنیکوں میں تازہ ترین پیش رفت کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔
اس کے علاوہ، شری جی کشن رڈی نے ماحولیات اور مقامی کمیونٹیز کے مفادات کو متوازن رکھنے کی بھی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معدنیات کی ترقی صرف معاشی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ سماجی بہتری کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ اس لیے، دریافت اور کان کنی کے عمل میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا لازمی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر ایسا ماڈل تیار کریں گی جو نہ صرف قومی مفادات کو ترجیح دے گا، بلکہ مقامی لوگوں کی زندگی کے معیار میں بھی بہتری لائے گا۔
آخر میں، شری رڈی نے تمام متعلقہ ذیِ نفع فریقین سے اپیل کی کہ وہ اس اصلاحی عمل میں فعال طور پر حصہ لیں۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ معدنیات کے شعبے کی چیلنجز کا حل صرف مضبوط عزم اور مؤثر ہم آہنگی سے ہی ممکن ہے۔ یہ کوشش ملک کے مستقبل کے لیے ایک متحرک تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے سالوں میں واضح طور پر نظر آئیں گے۔