پی ایم سورج گھر واقعی ایک عوامی تحریک کا روپ اختیار کر چکا ہے: شری پراہلاد جوشی
ش्री پراہلاد جوشی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم سورج گھر اسکیم اب صرف ایک سرکاری پروگرام نہیں بلکہ ایک وسیع عوامی تحریک کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم دیہی معیشت کو مضبوط کرنے اور توانائی کی خودکفیلی کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
بھارت میں توانائی کے بحران کے حل اور دیہی ترقی کے نئے پہلوؤں کو سمیٹتے ہوئے، وزیراعظم سورج گھر اسکیم کے حوالے سے ملک بھر میں جاری بحث و مباحثے کے سلسلے میں شری پراہلاد جوشی نے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اسکیم اب صرف ایک سرکاری اقدام یا تکنیکی منصوبے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک مضبوط عوامی تحریک کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ شری جوشی کا ماننا ہے کہ جب شہری خود اپنی چھتوں پر سورجی پینلز لگا کر بجلی پیدا کرنے لگتے ہیں، تو یہ صرف توانائی کی بچت نہیں، بلکہ خود مختاری کی طرف ایک سماجی اور معاشی انقلاب ہے۔
شری پراہلاد جوشی نے اپنے خیالات میں اس اسکیم کے سماجی اثرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سورجی توانائی کے استعمال کا رجحان اب ایک متبادل آپشن کے طور پر ابھرا نہیں، بلکہ یہ ایک لازمی ذریعہ بن گیا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ دیہی علاقوں میں بجلی کی کمی اور مہنگے کرایوں کی وجہ سے جن خاندانوں کو جدوجہد کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، وہ اب سورج گھر اسکیم کے ذریعے اپنی توانائی کی ضروریات کو خود پورا کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف ان کے مالی بوجھ کو ہلکا کر رہی ہے، بلکہ ان کے اعتماد کو بھی دگنا کر رہی ہے۔ شری جوشی نے مزید کہا کہ یہ تحریک اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ اوپر سے نیچے (ٹاپ ڈاؤن) کے تصور کو توڑ کر، نیچے سے اوپر (بٹم اپ) کی شراکت داری کو فروغ دیتی ہے۔
وہم پر، شری پراہلاد جوشی نے اس اسکیم کی معاشی عملی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سورجی پینلز کی تنصیب اور دیکھ بھال مقامی مزدوروں اور ہاتھ سے بننے والے سامان کے کاریگروں کو نئے روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ اس سے دیہی معیشت میں ایک مثبت گردش (پازیٹو سرکیولیشن) پیدا ہو رہی ہے، جہاں پیسہ مقامی سطح پر ہی گردش کر رہا ہے۔ انہوں نے انتباہ بھی دیا کہ ایسے ترقیاتی پروگراموں کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر شہریوں کو اس تکنیکی تبدیلی کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں درست معلومات فراہم نہ کی جائیں، تو یہ تحریک اپنی رفتار کھو سکتی ہے۔
وزیراعظم سورج گھر اسکیم کے حوالے سے جاری بحث و مباحثے کے درمیان، شری پراہلاد جوشی نے تمام شہریوں کو آگاہی حاصل کرنے کی مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ وقت ہے جب ہر گھر ایک توانائی پیدا کرنے والی اکائی بنے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ آنے والے وقت میں یہ تحریک مزید رفتار پکڑ سکتی ہے، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں سورجی وسائل قابل ذکر مقدار میں دستیاب ہیں۔ شری جوشی نے آخر میں کہا کہ جب تک یہ اسکیم صرف کاغذات پر نہیں، بلکہ زمینی سطح پر ہر گھر کی چھت تک نہیں پہنچتی، تب تک عوامی تحریک کے جذبے کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔ اس سمت میں حکومت اور شہری معاشرے دونوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کی حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔