آئی این ایس تریشول اٹلی کے شہر سیویٹاویکیا پہنچ گیا
بھارتی بحریہ کا جہاز آئی این ایس تریشول 26 اکتوبر 2026 کو اٹلی کے شہر سیویٹاویکیا کے بندرگاہ پہنچا، جہاں اس کا رسمی تقریب کے ساتھ استقبال کیا گیا۔
Journalism India··1 ویوز·3 منٹ پڑھیں
پیر، 26 اکتوبر 2026 کو بھارتی بحریہ (Indian Navy) کا خصوصی جنگی جہاز 'آئی این ایس ترشول' (INS Trishul) اٹلی کے اہم بحری بندرگاہ سیویٹاویکیا (Civitavecchia) میں پہنچا۔ یہ سفر بھارتی اور اٹلی کی بحریہ کے درمیان طے شدہ بحری مشقیں اور دوطرفہ فوجی تعاون کے ایک اہم پہلو کا حصہ ہے۔ جہاز کے بندرگاہ میں داخلے کے حتمی مرحلے کے ساتھ ہی، اٹلی کی بحریہ کی جانب سے ایک شاندار رسمی استقبال کا اہتمام کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ رینک کے افسران نے شرکت کی۔
آئی این ایس ترشول، جو بھارتی بحریہ کے 'شوالیک' کلاس کے سمندری راکٹ لانچر جہازوں میں سے ایک ہے، اپنے عملے کی انضباط اور تکنیکی تیاری کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کی اٹلی میں موجودگی صرف ایک فوجی مشق تک محدود نہیں ہے، بلکہ اسے دونوں ممالک کے درمیان حکمتِ عملی کے شراکت داری اور بحری سلامتی کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے اشارے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ سیویٹاویکیا، جو اٹلی کی اہم فوجی بندرگاہ ہے، اکثر بین الاقوامی بحری مشقیں اور غیر ملکی جہازوں کے مہمانوں کی میزبانی کرتا ہے۔
اس موقع پر، بھارتی بحریہ کے افسران نے اٹلی کے ہم منصبوں سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی مشترکہ بحری مشقیں اور بحری سلامتی کے موضوعات پر بات چیت کی گئی۔ سینئر بحری افسران نے نوٹ کیا کہ یہ آمد دونوں ممالک کے درمیان 'بڑے بھائی' (Big Brother) کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں مدد دے گی۔ استقبال کے تقریب کے دوران، بھارتی جھنڈے کے ساتھ اٹلی کے جھنڈے کو سجاوٹ کے طور پر پیش کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ احترام اور یکجہتی کی علامت تھا۔
جہاز کے کمانڈر نے اپنے عملے اور مسافروں کی طرف سے اٹلی کی بحریہ کے مہمان نوازی اور تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی این ایس ترشول کا یہ سفر بھارتی بحریہ کی غیر ملکی سفری پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد دنیا بھر کے دوست ممالک کے ساتھ حکمتِ عملی کی جڑیں برقرار رکھنا ہے۔ سیویٹاویکیا میں قیام کے دوران، بھارتی عملے کے ارکان مقامی ثقافت سے جڑے کچھ ثقافتی پروگراموں میں بھی حصہ لیں گے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تبادلے کو فروغ ملے گا۔
بحریہ کے ذرائع کے مطابق، آئی این ایس ترشول کے اس سفر کے دوران، بحری ٹیکنالوجی، بحری سلامتی کے پروٹوکول اور مشترکہ بحران مینجمنٹ پر تفصیلی بحثیں کی جائیں گی۔ یہ موجودگی بھارت کی 'اکشنری' پالیسی کے تحت بھی اہم ہے، جو جنوبی ایشیا اور یورپ کے درمیان بحری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔ جہاز اپنے اگلے پروگراموں کے لیے تیار ہے، جس میں مشترکہ مشقیں شامل ہیں، جو دونوں ممالک کی بحریہ کی تعاون کی صلاحیت کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔ اس طرح، آئی این ایس ترشول کا سیویٹاویکیا پہنچنا نہ صرف ایک فوجی واقعہ ہے، بلکہ دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا باب بھی ہے۔