بھارت کی صدر نے بھارتی طبی علوم و تحقیقی ادارے (ایمس) بھلوسپور کے پہلے گریجویشن تقریب میں شرکت کی
بھارت کی صدر نے نئی دہلی میں واقع اعلیٰ طبی تعلیمی ادارے (ایمس) میں منعقدہ پہلے پروفیشنل تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب میں طبی تعلیم کے شعبے میں داخلہ حاصل کرنے والے نئے طلباء کو اعزاز دیا گیا۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
نئی دہلی | بھارت کے جمہوریہ کی پہلی خاتون صدر نے بدھ کو نئی دہلی میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، بھلاسر کے شاندار گریجویشن تقریب میں شرکت کرتے ہوئے اپنے پیغام میں طبی تعلیم کے ترقی اور ملک کی صحت کے خدمات کو مزید مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ یہ تقریب ادارے کی تاریخ میں اس کی قیام کے بعد پہلی باقاعدہ گریجویشن تقریب تھی، جس میں طبی سائنس کے شعبے میں نئے ایوارڈز اور ڈگری حاصل کرنے والے ممتاز طلباء کو اعزاز دیا گیا۔
صدر کے دیے گئے مرکزی خطاب میں واضح کیا گیا کہ صحت کا نظام کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اسے مضبوط کرنے کے لیے مہارتی اور رحم دل ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے نئے ڈاکٹروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کیریئر میں نہ صرف تکنیکی مہارت کو ترقی دیں بلکہ انسانیت اور خدمت کے جذبے کو بھی ترجیح دیں۔ صدر نے ادارے کی انتظامی ٹیم اور اساتذہ کی تعریف کی، جنہوں نے شاندار تعلیمی ماحول تیار کر کے طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں مدد کی۔
تقریب میں موجود دیگر مہمانوں میں صحت کے وزارت کے اعلیٰ افسران، ادارے کے ڈائریکٹر، سینئر ڈاکٹروں کی بڑی تعداد اور ملک بھر سے آنے والے والدین شامل تھے۔ موقع پر طلباء نے اپنے عہد ادا کیے کہ وہ ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی خدمات فراہم کریں گے اور صحت کے خدمات کے مساوی تقسیم کے مقصد کو حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
ایمس، بھلاسر کے انتظامیہ نے بتایا کہ یہ پہلی گریجویشن تقریب ادارے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے، جو ادارے کے تعلیمی اقدامات کے ابتدائی کامیابی کی علامت ہے۔ تقریب کے دوران طلباء کو ان کے کارکردگی کی بنیاد پر مختلف انعامات بھی دیے گئے۔ مرکزی مہمان کی حیثیت سے موجود صدر نے ادارے کے مستقبل کے خوشگوار نقطہ نظر کو بھی نمایاں کیا اور کہا کہ آنے والے برسوں میں ادارہ ملک کے صحت کے شعبے میں ایک معیار مقرر کرنے کا کردار ادا کرے گا۔
تقریب کے اختتام پر صدر نے تمام گریجوئیٹ طلباء کو مبارکباد دی اور انہیں اپنے نئے مرحلے میں کامیابی کی خواہش کی۔ اس موقع پر ادارے کے کیمپس میں حفاظتی انتظامات کی مکمل تیاری کی گئی تھی اور تمام مہمانوں کا باوقار استقبال کیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ادارے کے لیے بلکہ بھارت کی طبی تعلیم کے نظام کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے، جو ملک کے صحت کے شعبے میں نئے معیارات کے قیام کی سمت میں ایک قدم مانا گیا۔