ہریانہ کے کرنال میں 'کھیت بچاؤ مہم' کے دوران مرکزی زراعت وزیر شیو راج سنگھ چوہان نے چوپال میں کسانوں سے براہِ راست بات چیت کی
کینٹرل زرعی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے ہریانہ کے کرنال میں 'کھیت بچاؤ مہم' کا آغاز کیا اور مقامی کسانوں سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے زرعی شعبے کی چیلنجز اور حل پر تبادلہ خیال کیا۔
Journalism India··1 ویوز·3 منٹ پڑھیں
گورڈا، 22 اکتوبر 2026 کو ہرایا کے کرنل ضلع میں زرعی شعبے کے لیے ایک تاریخی دن تھا جب مرکزی زرعی وزیر شری شیوراج سنگھ چوہان نے 'کھیت بچاؤ مہم' کے تحت ایک خاص پروگرام کا قیادت کیا۔ یہ مہم صرف ایک سلسلہ وار پروگرام نہیں تھی، بلکہ یہ ملک کے زرعی شعبے کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے اور کسانوں کی آواز کو براہ راست مرکز حکومت تک پہنچانے کے لیے ایک پلیٹ فارم تھا۔ وزیر محترم نے کرنل کے ایک اہم میدان میں منعقد اس چوپال میں ہزاروں کسانوں، زرعی ماہرین اور مقامی انتظامیہ کے افسران سے ملاقات کی۔
پروگرام کی شروعات میں، شری شیوراج سنگھ چوہان نے کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی معیشت کی ریڑھ ہڈی زرعت ہے اور 'کھیت بچاؤ' مہم اسی فلسفے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد فصل کی لاگت کم کرنا، پیداوار کی معیار بڑھانا، اور کسانوں کے پاس دستیاب تکنیکی سہولیات تک براہ راست رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پانی کے تحفظ، حیاتیاتی کھیتی، اور جدید زرعی آلات کے استعمال پر زور دیا، جس سے کسانوں کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ممکن ہو سکے۔
چوپال کے دوران، کسانوں نے اپنے دکھ درد اور مسائل کو بیان کرنے کا موقع پایا۔ کئی کسانوں نے مٹی کی کھاد میں کمی، مناسب سینچائی سہولیات کی کمی، اور پیداوار کی فروخت کے منصفانہ قیمت نہ ملنے کی شکایات کی۔ کچھ نے فصل بیمہ منصوبوں کے دعووں کو وقت پر نہ ملنے اور زرعی قرضوں کے سود کی شرحوں کو لے کر بھی اپنی بات رکھی۔ شرافت اور صبر کے ساتھ کسانوں کے سوالات اور تجاویز کو سنتے ہوئے، مرکزی زرعی وزیر نے ہر ایک مسئلے پر وضاحت دی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ان تمام مسائل کے حل کے لیے زمینی سطح پر کام کر رہی ہے اور جلد ہی ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو کسانوں کو راحت دیں۔
شری شیوراج سنگھ چوہان نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ روایتی کھیتی کے نقصانات کو سمجھیں اور نئی ٹیکنالوجیز اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ 'کھیت بچاؤ مہم' کے تحت خصوصی تربیتی شِیروں کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں کسانوں کو ہواج، حیاتیاتی کھاد اور مؤثر کیٹ کنٹرول کے طریقے سکھائے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت، کسانوں کو براہ راست مارکیٹ تک جوڑنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کر رہی ہے تاکہ درمیانی سطح کے کردار کو کم کیا جا سکے اور کسان کو اپنی پیداوار کا مکمل قیمت مل سکے۔
پروگرام کے دوران، مقامی انتظامیہ نے بھی کسانوں کے لیے مختلف منصوبوں کی معلومات تفصیل سے دی۔ کسانوں نے اس براہ راست گفتگو کے پلیٹ فارم کا خیرمقدم کیا، جس نے انہیں حکومت کے فیصلوں اور پالیسیوں کو سمجھنے کا ایک شفاف موقع دیا۔ یہ چوپال نہ صرف کرنل کے لیے، بلکہ پورے ہرایا کے لیے ایک تحریک انگیز واقعہ تھا، جس نے یہ دکھایا کہ زرعی وزارت کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر، شری شیوراج سنگھ چوہان نے کسانوں سے ہاتھ ملایا اور انہیں آگے کی کھیتی کے لیے شُبھکامنا دیں۔ انہوں نے 'کھیت بچاؤ مہم' کو کامیاب بنانے میں کسانوں کی شمولیت کو ہی سب سے بڑی طاقت بتایا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہرایا میں زرعی پالیسیوں کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لیے حکومت اور کسانوں کے درمیان فاصلہ کم ہو رہا ہے، جس سے مستقبل میں زرعی پیداوار اور کسانوں کی روزگار دونوں میں بہتری کی امید جگ گئی ہے۔