ڈاکٹر منسوخ منڈویا نے صنعتی تعلقات اور مزدور اور انعامات 2026 پر منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کیا
ڈاکٹر منصُخ ماندویہ نے 'صنعتی تعلقات اور مزدوری اور انعامات 2026' کے قومی کانفرنس میں حصہ لیا اور پرامن صنعتی ماحول کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
پیر، 28 ستمبر 2026 کو، ملک کے اہم مزدوری اور صنعتی پالیسی سازوں کے درمیان ایک اہم پلیٹ فارم تیار ہوا جب ڈاکٹر منسوخ منڈویا نے "صنعتی تعلقات اور مزدوری اور انعامات 2026" کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد موجودہ عالمی معیشت کے تناظر میں بھارت کے صنعتی شعبے میں مزدوروں اور انتظامیہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے نئے طریقوں پر بحث کرنا تھا۔ ڈاکٹر منڈویا نے اپنے افتتاحی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ جدید صنعتی ترقی کے لیے استحکام اور تعاون کا ماحول انتہائی ضروری ہے۔
کانفرنس کے دوران، ڈاکٹر منڈویا نے یونین-انتظامیہ کے تعلقات کو "انعام" کے طور پر دیکھنے کے تصور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دلیل دی کہ جب مزدور اور انتظامیہ دونوں فریق باہمی اعتماد اور تعاون کے ذریعے کام کرتے ہیں، تو پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملازمین کی فلاحی صورتحال میں بھی بہتری آتی ہے، جس سے یہ ہر فریق کے لیے ایک "انعام" بن جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی کے کچھ برسوں میں صنعتی شعبے میں ہونے والے تبدیلیوں نے مزدور فلاح کو مزید ترجیح دینے کی ضرورت کو بڑھا دیا ہے۔
قومی سطح پر اس کانفرنس میں ملک بھر سے آئے مزدور رہنماؤں، صنعت کاروں، ماہرین تعلیم اور پالیسی ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ بحثوں کے دوران کئی ماہرین نے یہ سوال اٹھایا کہ تکنیکی تبدیلیوں اور آٹومیشن کے دور میں مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر منڈویا نے اس تناظر میں حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی پالیسیوں کا مقصد صرف قوانین بنانا نہیں، بلکہ ایک ایسا زمینی سطح پر عملدرآمد شدہ ڈھانچہ بنانا ہے جہاں طویل عرصے سے زیرِ بحث مسائل کو کم سے کم کیا جا سکے اور بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا سکے۔
کانفرنس کے اختتام پر، ایک جامع روڈ میپ پر اتفاق ہوا، جس میں صنعتی امن کو برقرار رکھنے کے لیے باقاعدہ گفتگو کے پلیٹ فارمز کی تشکیل اور مزدور فلاحی تنظیموں کی صلاحیت سازی کو شامل کیا گیا۔ ڈاکٹر منڈویا نے تمام شرکاء سے آگے کی راہ میں معاون رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے نتیجے کے طور پر کہا کہ "صنعتی تعلقات اور مزدوری اور انعامات 2026" کا یہ ایڈیشن نہ صرف ایک بحث کا پلیٹ فارم تھا، بلکہ یہ آنے والے برسوں کے لیے ایک رہنما اصول بھی ہے۔ اس اجلاس نے اس بات کو واضح کیا کہ معاشی ترقی اور سماجی انصاف دونوں ایک دوسرے پر منحصر ہیں اور ان دونوں کے متوازن ترقی ہی سے ملک کو حقیقی پیش رفت حاصل ہوگی۔