وزیراعظم اقلیتی کمیونٹی ترقیاتی منصوبہ (پی ایم اے جے وائی)
وزیر اعظم نریندر مودی نے تسلیم کیا کہ ملک کا قرض بوجھل ہے، لیکن انہوں نے اس کے حل کے لیے اپنی عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے عوام سے مل کر چلنے کی اپیل کرتے ہوئے کتابی گفتگو کے بجائے گلیوں اور محللوں میں جا کر لوگوں کے دلوں کو جیتنے پر زور دیا۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
راجدہی دہلی میں ایک بڑی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کی معاشی صورتحال اور عوامی رابطے کے نئے اقدامات پر ایک وسیع نقطہ نظر پیش کیا۔ وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ آج بھارت پر بہت بھاری قرض کا بوجھ ہے، جو ایک چیلنج ہے، لیکن حکومت نے عزم کیا ہے کہ وہ اسے صحیح سمت میں لے جائے گی۔ انہوں نے موجودہ معاشی ڈھانچے کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ملک کو اپنی قدرتی اقدار اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دنیا میں اپنی قیادت قائم رکھنی ہوگی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران سیاسی مخالفین اور اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صرف کتابوں اور کاغذات پر لکھے ہوئے نظریات سے ملک نہیں چلتا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اصل سیاست اور جمہوریت کی حقیقت وہ ہے جو گلیوں، بازاروں اور منڈیوں میں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ عوام کے درمیان جاتے ہیں، تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ تاریخ کے صفحات میں لکھا ہوا اور حقیقی زمینی حقیقت میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کی کوشش ہے کہ وہ صرف دفاتر میں بیٹھ کر نہیں، بلکہ عوام کے درمیان جا کر ان کی ضروریات کو سمجھے اور ان کے مسائل کا حل تلاش کرے۔
اجتماع میں موجود عوام نے وزیراعظم کی باتوں سے متاثر ہو کر جوش اگایا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ جب عوام کا ساتھ ملتا ہے، تو کوئی بھی مشکل پہاڑ برابر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی یکجہتی اور خوشحالی کے عزم میں حکومت کے ساتھ کھڑے رہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی ذکر کیا کہ بھارت ایک تاریخی لمحے سے گزر رہا ہے، جہاں ملک کو اپنی ثقافتی شناخت کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کے نئے اہداف حاصل کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرض کا بوجھ ضرور ہے، لیکن یہ اسی طرح ہے جیسے ایک مضبوط انسان کندھوں پر بھاری برتن اٹھا کر چلتا ہے؛ یہ بوجھ ہمیں کمزور نہیں، بلکہ اور مضبوط بناتا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں جمہوریت کی اقدار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کی رائے اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو چیلنج دیا کہ وہ بھی زمینی سطح پر عوام سے ملیں اور ان کی اصل مشکلات کو سمجھیں۔ پی ایم مودی نے یہ کہتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ بھارت کی شان اور وقار کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، چاہے وہ معاشی اصلاحات ہوں یا سماجی انصاف کا نقطہ نظر ہو۔ اس خطاب نے سیاسی گلیوں میں بحثوں کو نئی سمت دی، جہاں اب توجہ صرف پالیسیوں کی بجائے عوامی رابطے اور زمینی حقیقت پر مرکوز ہو رہی ہے۔ اہم شخصیات نے اس اقدام کو جمہوریت کے لیے مثبت قدم سمجھا ہے۔