سرکار نے کینسر کی دواؤں کی قیمتوں پر کنٹرول کا دائرہ بڑھایا؛ کینسر کے مریضوں کو سالانہ 2,500 کروڑ روپے کی بچت ہونے کی امید
سرکار نے کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی دواؤں کی قیمتوں پر کنٹرول کا دائرہ وسیع کیا ہے، جس سے مریضوں کو ہر سال تقریباً 2,500 کروڑ روپے کی بچت ہونے کا امکان ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
حکومت نے کینسر سے متاثرہ افراد کے لیے بڑی سہولت کا اعلان کرتے ہوئے کینسر کی ادویات پر قیمتوں کے کنٹرول کی دائرہ کار مزید وسیع کر دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مریضوں کے مالی بوجھ کو کم کرنا اور اعلیٰ معیار کی ادویات تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔ حکام کے مطابق، اس نئی پالیسی کے نافذ ہونے سے کینسر کے مریضوں کو سالانہ تقریباً 2,500 کروڑ روپے کی بچت کی امید ہے۔ یہ ایک تاریخی قدم ہے جو براہِ راست لاکھوں خاندانوں کے صحت کے اخراجات کو متاثر کرے گا۔
اعلانیہ فہرست میں شامل ادویات کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی ان کی قیمتوں میں بھی اہم کمی لائی گئی ہے۔ اس سے پہلے، کئی مہنگے کینسر ٹریٹمنٹس اور خاص ادویات کنٹرول کی دائرہ کار سے باہر تھیں، جس کی وجہ سے مریضوں کو مارکیٹ میں دستیاب قیمتوں پر انہیں خریدنا پڑتا تھا۔ اب، جب ان ادویات کو کنٹرول شدہ قیمت والی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، تو ان کی دستیابی اور سستی قیمتوں پر خریداری زیادہ آسان ہو جائے گی۔ صحت کے وزارت کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ فیصلہ ان تمام شکایات کو ذہن میں رکھ کر کیا گیا ہے، جو کینسر کے علاج کے بھاری اخراجات کی طرف اشارہ کرتی تھیں۔
کینسر کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے یہ خبر انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی صرف مالی بچت ہی نہیں لائے گی، بلکہ یہ علاج کے معیار کو بھی متاثر کرے گی، کیونکہ مریض اب اپنی حالت کے مطابق مناسب ادویات کا مکمل کورس مکمل کر سکیں گے۔ پہلے اکثر مالی عدمِ برداشت کی وجہ سے مریض علاج کے عمل کو درمیان ہی چھوڑ دیتے تھے، لیکن اب یہ رکاوٹ کافی حد تک دور ہو جائے گی۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ قدم فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے ساتھ مناسب بات چیت کے بعد اٹھایا گیا ہے، تاکہ ادویات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اور مریضوں کو وقت پر ضروری ادویات ملتی رہیں۔ یہ اقدام بھارت کی صحت کی پالیسی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں بنیادی طبی اخراجات کو کنٹرول کر کے عام شہریوں کے لیے صحت کے خدمات کو زیادہ قابلِ رسائی بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ 2,500 کروڑ روپے کی بچت کا اندازہ سنجیدگی سے لینا چاہیے، کیونکہ یہ رقم براہِ راست ملک کی صحت کے نظام میں خرچ کی جا سکتی ہے یا عام لوگوں کے لیے دیگر مسائل میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں، فارما کمپنیوں کو نئی قیمتوں کے مطابق اپنے اسٹاک اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا، تاکہ کسی بھی عدمِ استحکام سے بچا جا سکے۔ حکومت نے مریضوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ادویات کی قیمتوں کا ادا کرنے سے پہلے متعلقہ فارمیسی یا ہسپتال سے تصدیق کریں، تاکہ وہ نئی کنٹرول شدہ قیمتوں کا فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ اقدام بھارت کے کینسر کے مریضوں کے لیے نئی امید کی کرن پھیلانے والا ہے۔