وزیر اعظم نے راجہ آگرسن جی کی یاد میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی سیاسی بصیرت، سماجی خدمت اور نوجوانوں میں آگرسن خاندان کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات نے ریاست کو ایک عظیم رہنما سے محروم کر دیا ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
وزیراعظم نے حال ہی میں اپنے ایک جذباتی بیان میں راجہ اگرسن جی کو خراجِ تحسین پیش کیا، جن کی وفات نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں گہرے سوگ کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خراجِ تحسین میں راجہ اگرسن جی کو اس ملک کے ان نایاب رہنماؤں کی صف میں شامل کیا جنہوں نے اپنی زندگی بھر عوام کی خدمت اور ملک کے مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ راجہ اگرسن جی کی زندگی ایک ایسی کہانی ہے جو قربانی، وقف اور ذمہ داری سے گونجتی ہے، اور ان کی یادیں آج بھی نوجوان نسل کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔
وزیراعظم نے خاص طور پر راجہ اگرسن جی کی سیاسی دوراندیشی اور ان کے مقامی سطح پر کیے گئے کارناموں کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ راجہ جی ہمیشہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی آواز بنے رہے اور ترقی کی مشعل کو بال بال قائم رکھا۔ ان کی قیادت نے نہ صرف علاقے میں قائم سیاسی ڈھانچوں کو مضبوط کیا بلکہ اس میں سکون اور اتفاق کا ایک نمونہ بھی قائم کیا جس کے فوائد آج بھی عوام حاصل کر رہے ہیں۔
پیغام جاری کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ راجہ اگرسن جی کی اچانک وفات نے منظرِ نامے میں ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا، "راجہ اگرسن جی کا وعدہ اور ان کی محنت ایک ایسا سنگم تھا جس میں بھارتی سیاست کے بنیادی معیار— ایمانداری اور عوامی خدمت— محفوظ تھے۔" انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ راجہ جی نے نوجوانوں کو اپنے خیالات سے جوڑنے میں بہت زیادہ وقت اور توانائی لگائی تاکہ آنے والی نسل ذمہ داری اور جوابدہی کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
اگرسن خاندان کی سیاسی ورثے کو دیکھتے ہوئے، وزیراعظم نے کہا کہ راجہ اگرسن جی کی مدتِ عہد ایک بحران سے پاک اور ترقی پسند دور تھا جس میں مقامی مسائل کے حل کے لیے نئے طریقے اپنائے گئے۔ انہوں نے راجہ جی کی بیوہ اور ان کے خاندان کے اراکین کو اپنی گہری تعزیت پیش کی اور کہا کہ حکومت ان کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ راجہ اگرسن جی کی وفات کے بعد بھی ان کے نظریات اور کام کرنے کے انداز کا اثر علاقے میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ راجہ جی کی طرف سے رکھی گئی بنیاد کو مزید مضبوط کریں اور ان کی دوراندیشی کو جاری رکھیں۔ وزیراعظم نے اختتام پر کہا، "راجہ اگرسن جی کی وفات سے ہم نے نہ صرف ایک رہنما کو کھویا بلکہ ایک ادارے کو کھویا ہے۔ ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا یہ وقت سوگ کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے لیے فخر اور احترام کا احساس بھی دلاتا ہے۔" یہ بیان مقامی سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، جہاں تمام فریقین نے راجہ جی کے لیے اپنا خراجِ تحسین پیش کرنے کا عہد کیا ہے۔