کیندریہ راجیہ منسٹر شی رام داس اٹھاوڑے نے آئی این ای میں دہلی ہاٹ میں شلپ سماگم میلہ 2026 کا دورہ کیا
کینٹرل ریاستی وزیر شری رامداس اٹھاولے نے ڈیلہی میں واقع آئی این اے میں منعقد 'شیلپ سماغم میلہ 2026' کا معائنہ کیا۔ انہوں نے یہ ذکر کیا کہ یہ میلہ بھارتی کاریگر کے ہنر کو دکھانے اور انہیں مارکیٹ تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
Journalism India··0 ویوز·3 منٹ پڑھیں
اتوار، 8 نومبر 2026 کو دہلی کے آئی این ای ایریا میں واقع دہلی ہاٹ میں 'شلف سماگم میلہ 2026' کا انعقاد کیا گیا، جس میں مرکزی وزیر برائے ریاست شی رام داس اٹھاوڑے کو خصوصی اعزاز حاصل ہوا۔ وزیر صاحب نے میلے کا تفصیلی دورہ کرتے ہوئے مختلف نمائندوں سے گفتگو کی اور ان کے مصنوعات کی معیاری جانچ پڑتال کی۔ اس موقع پر انہیں ہندوستانی روایات سے جڑے کئی منفرد اور مستند فنِ دستکاری کے نمونے دیکھنے کو ملے، جو صدیوں پرانی مہارتوں کی جھلک پیش کر رہے تھے۔
شی رام داس اٹھاوڑے نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ 'شلف سماگم میلہ 2026' محض ایک تجارتی پلیٹ فارم نہیں، بلکہ ہندوستانی ثقافت اور فن کو زندہ رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی ہاتھ سے بنے ہوئے مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور ایسے میلے کاریگروں کو براہِ راست صارفین سے جڑنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ وزیر صاحب نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی مہمات کے تحت ان کاریگروں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے اور ان کے مصنوعات کو داخلی اور بین الاقوامی مارکیٹس میں پھیلانے کے لیے خصوصی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دورے کے دوران، وزیر صاحب نے دہلی ہاٹ کے مختلف اسٹالز پر رک کر مقامی فنکاروں سے ان کے تجربات اور چیلنجز کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کاریگروں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی مہارت کا احترام ہونا چاہیے اور انہیں منصفانہ قیمت ملنی چاہیے۔ شی اٹھاوڑے نے یہ بھی اشارہ کیا کہ آنے والے وقت میں ایسے میلوں کی تعداد بڑھائی جائے گی تاکہ ملک بھر کے پوشیدہ ہونے والے ہنر کو روشنی میں لایا جا سکے۔ انہوں نے خاص طور پر دہلی کے اس انتظام کی تعریف کی، جس میں ثقافتی نمائشوں کے ساتھ ساتھ فنِ دستکاری کے مختلف اقسام کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا تھا۔
میلے میں موجود تماشائین نے بھی نمائش شدہ فنون کی تعریف کی، جس میں براس، مٹی کے برتن، ہاتھ سے بنی سلائی اور دیگر روایتی اشیاء شامل تھیں۔ یہ میلہ نہ صرف ایک تجارتی واقعہ تھا، بلکہ ہندوستانی فن اور ثقافت کے لیے عوام کے محبت کا بھی علامت رہا۔ شی رام داس اٹھاوڑے کے اس دورے نے اس مہم کو مزید طاقت دی ہے، جس سے کاریگروں کی کمیونٹی کو اعتماد اور حمایت کا پیغام ملا ہے۔ منظم کرنے والوں نے بتایا کہ 'شلف سماگم 2026' کے ذریعے سینکڑوں کاریگروں کو اپنے مصنوعات بیچنے کا موقع ملا ہے، جس سے ان کی معیشت میں بہتری ہوگی۔ یہ واقعہ دہلی کی ثقافتی دارالحکومت کے طور پر ایک اور کامیاب مثال پیش کرتا ہے، جہاں روایتی اور جدید دنیا کا امتزاج ہوتا ہے۔